26/08/2026
ذرا رک کر سوچیں… ہم کس نبی ﷺ کی آمد کا جشن منا رہے ہیں؟
ہم اُس محمد مصطفیٰ ﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جنہوں نے جہالت کے اندھیروں میں علم کا چراغ جلایا، مظلوم کو سہارا دیا، کمزور کو حق دلایا، عدل قائم کیا، امانت سکھائی اور انسان کی جان، عزت اور حق کو مقدس قرار دیا۔
لیکن آج اپنے پاکستان کو دیکھیں…
کہیں معصوم بچیاں درندگی کا نشانہ بن رہی ہیں، کہیں بچے اغوا ہو رہے ہیں، کہیں ظلم کے بعد ان کی جان تک لے لی جاتی ہے۔
2026 کے صرف پہلے چھ ماہ میں 1,914 بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے رپورٹ شدہ واقعات سامنے آئے، جن میں 1,015 جنسی زیادتی کے کیسز تھے۔
اور آج اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال، پمز، میں 14 معصوم نومولود بچے آگ میں جان کی بازی ہار گئے۔
کسی ماں کی گود اجڑ گئی…
کسی باپ کی پوری دنیا ختم ہوگئی…
اور ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا:
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
اگر کسی ادارے میں رشوت لے کر لوگوں کے کام کیے جائیں،
اگر طاقتور کے لیے قانون اور ہو اور غریب کے لیے اور،
اگر سچ معلوم ہونے کے باوجود کسی امیر، بااثر یا طاقتور ظالم کا ساتھ دیا جائے،
اگر مظلوم انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہے اور کوئی سننے والا نہ ہو،
اگر ایک پڑوسی بھوکا سوئے اور دوسرا صرف دکھاوے پر لاکھوں خرچ کرے،
اگر ہماری تقریبات اور جلوس کسی مریض، ایمبولینس، مسافر یا عام راہ گیر کے لیے اذیت بن جائیں…
تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جو محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات کی نمائندگی کرتا ہے؟
چراغاں کیجیے، درود پڑھیے، محفل سجائیے، خوشی منائیے —
لیکن خدارا سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو بھی زندہ کیجیے۔
کسی بھوکے کو کھانا کھلا دیں۔
کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دیں۔
کسی مظلوم کی آواز بن جائیں۔
کسی بیٹی کو تحفظ دلانے کے لیے کھڑے ہو جائیں۔
رشوت لینے سے انکار کر دیں۔
کسی غریب کا جائز کام بغیر سفارش کے کر دیں۔
سچ کے ساتھ کھڑے ہوں، چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔
اور اپنے اختیار میں آنے والے ہر انسان کے ساتھ انصاف کریں۔
نبی ﷺ سے محبت صرف جھنڈے لگانے کا نام نہیں،
نبی ﷺ سے محبت اپنے کردار پر اُن ﷺ کی سیرت کا رنگ چڑھانے کا نام ہے۔
ہم راستوں کو روشنیوں سے سجائیں، یہ خوبصورت ہے؛
مگر اس سے پہلے کسی انسان کی زندگی کا راستہ آسان کر دیں۔
ہم عمارتوں کو چراغاں سے منور کریں؛
مگر اس سے پہلے اپنے دل، اپنے دفتر، اپنے تھانے، اپنے ہسپتال، اپنی عدالت، اپنے کاروبار اور اپنے گھر کو عدل اور امانت سے منور کریں۔
یاد رکھیے:
ظلم کرنے والا صرف وہ نہیں جو ظلم کرتا ہے؛
ظلم کو جانتے ہوئے طاقتور کے خوف، مفاد یا تعلق کی خاطر اس کے ساتھ کھڑا ہونا بھی ہمارے ضمیر کے لیے ایک بہت بڑا سوال ہے۔
آج ہمیں دوسروں سے پہلے اپنا احتساب کرنا ہے۔
کیا میرے ہاتھ سے کسی کا حق مارا گیا؟
کیا میرے عہدے سے کسی پر ظلم ہوا؟
کیا میری خاموشی نے کسی ظالم کو طاقت دی؟
کیا میرے مال میں کسی ضرورت مند کا حق تھا جسے میں نے نظر انداز کیا؟
کیا میری وجہ سے کسی انسان کو تکلیف پہنچی؟
اگر جواب ہاں ہے تو شاید آج کا سب سے خوبصورت جشن یہ ہوگا کہ ہم توبہ کریں، اپنی غلطی درست کریں اور کسی انسان کا حق اسے واپس لوٹا دیں۔
محمد مصطفیٰ ﷺ سے سچی محبت کا سب سے بڑا ثبوت ہمارا کردار ہے۔
آئیے ایسا پاکستان مانگنے کے ساتھ ایسا پاکستان بنانے میں اپنا حصہ بھی ڈالیں جہاں بچیاں محفوظ ہوں، بچے محفوظ ہوں، ہسپتال محفوظ ہوں، کمزور محفوظ ہو، انصاف بِکے نہیں، قانون طاقتور کے سامنے جھکے نہیں اور کسی مظلوم کو اپنا حق مانگنے کے لیے در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔
یا رسول اللہ ﷺ، ہم آپ ﷺ سے محبت کا دعویٰ تو بہت کرتے ہیں؛
اللہ ہمیں آپ ﷺ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔
آمین۔