16/03/2026
عمران خان کی عوام میں مقبولیت کی وجہ
کالم: سچ بولتا پاکستانی — فیاض مغل
پاکستان کی سیاست میں اگر کسی شخصیت نے گزشتہ دو دہائیوں میں عوامی مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں تو وہ ہیں Imran Khan۔ یہ مقبولیت اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل جدوجہد، عوامی بیانیہ اور سیاسی حالات کا گہرا تعلق ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جنہوں نے عمران خان کو پاکستان کی سیاست میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
سب سے پہلی وجہ عمران خان کی ذاتی جدوجہد اور امیج ہے۔ سیاست میں آنے سے پہلے عمران خان ایک عالمی شہرت یافتہ کرکٹر تھے جنہوں نے 1992 Cricket World Cup میں پاکستان کو فتح دلائی۔ اس کامیابی نے انہیں قوم کا ہیرو بنا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے شوکت خانم اسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے فلاحی منصوبے شروع کیے جس سے عوام میں ان کا تاثر ایک ایسے شخص کا بن گیا جو ذاتی مفاد کے بجائے خدمت کے جذبے سے کام کرتا ہے۔
دوسری اہم وجہ روایتی سیاست کے خلاف بیانیہ ہے۔ پاکستان میں برسوں تک چند سیاسی خاندان اقتدار میں آتے جاتے رہے۔ عوام کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس پیدا ہو چکا تھا کہ سیاست چند خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔ عمران خان نے اس نظام کے خلاف آواز اٹھائی اور خود کو ایک متبادل قیادت کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے بار بار احتساب، کرپشن کے خاتمے اور انصاف کے قیام کی بات کی، جس نے نوجوانوں اور متوسط طبقے کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
تیسری وجہ نوجوانوں کی حمایت ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ عمران خان نے اپنی سیاست میں نوجوانوں کو خاص اہمیت دی۔ جلسوں، سوشل میڈیا اور سیاسی بیانیے کے ذریعے انہوں نے نوجوان نسل کو یہ احساس دلایا کہ وہ ملک کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں عمران خان کے حامیوں کی بڑی تعداد نظر آتی ہے۔
چوتھی اہم وجہ سوشل میڈیا کا موثر استعمال ہے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا رائے عامہ بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ عمران خان کی جماعت Pakistan Tehreek-e-Insaf نے اس پلیٹ فارم کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ نوجوان کارکنوں اور حامیوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ان کا بیانیہ عام لوگوں تک پہنچایا جس سے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔
پانچویں وجہ قومی خودداری اور خودمختاری کا بیانیہ ہے۔ عمران خان اکثر اپنی تقاریر میں پاکستان کی خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے بارہا کہا کہ پاکستان کو عالمی طاقتوں کے دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ اس بیانیے نے عوام کے اس طبقے کو متاثر کیا جو قومی وقار اور خودداری کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
چھٹی وجہ سیاسی مشکلات اور قربانی کا تاثر ہے۔ پاکستان کی سیاست میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی رہنما کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو اس کی عوامی ہمدردی بڑھ جاتی ہے۔ عمران خان کو بھی مختلف سیاسی اور قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ان کے حامیوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کے لیڈر کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ اس تاثر نے بھی ان کی مقبولیت کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔
ساتویں اہم وجہ سادہ اور جذباتی اندازِ خطاب ہے۔ عمران خان کی تقاریر عام آدمی کو متاثر کرتی ہیں کیونکہ وہ پیچیدہ سیاسی زبان کے بجائے سادہ اور براہ راست انداز میں بات کرتے ہیں۔ وہ جلسوں میں عوامی جذبات کو ابھارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہی خوبی انہیں دیگر سیاستدانوں سے مختلف بناتی ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مقبولیت کے ساتھ توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ عوام کسی بھی رہنما سے صرف خوبصورت نعروں کی نہیں بلکہ عملی کارکردگی کی بھی امید رکھتے ہیں۔ سیاست میں اصل امتحان اقتدار کے بعد شروع ہوتا ہے جہاں وعدوں کو عملی شکل دینا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بھی لیڈر کی حقیقی کامیابی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ عوامی اعتماد کو کس حد تک برقرار رکھ پاتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عمران خان کی مقبولیت کئی عوامل کا مجموعہ ہے—ان کی ذاتی شہرت، روایتی سیاست کے خلاف بیانیہ، نوجوانوں کی حمایت، سوشل میڈیا کی طاقت اور قومی خودداری کا پیغام۔ یہی عناصر انہیں پاکستان کی موجودہ سیاست کی ایک نمایاں اور بااثر شخصیت بناتے ہیں۔
“قیادت وہی کامیاب ہوتی ہے جو عوام کے دلوں میں امید جگا دے،
اور امید وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھا دیتا ہے۔”
سچ بولتا پاکستانی
فیاض مغل