Fayyaz Mughal official

Fayyaz Mughal official Fayyaz mughal

یا اللہ مدد فرما
17/03/2026

یا اللہ مدد فرما

16/03/2026

عمران خان کی عوام میں مقبولیت کی وجہ
کالم: سچ بولتا پاکستانی — فیاض مغل
پاکستان کی سیاست میں اگر کسی شخصیت نے گزشتہ دو دہائیوں میں عوامی مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں تو وہ ہیں Imran Khan۔ یہ مقبولیت اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل جدوجہد، عوامی بیانیہ اور سیاسی حالات کا گہرا تعلق ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جنہوں نے عمران خان کو پاکستان کی سیاست میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
سب سے پہلی وجہ عمران خان کی ذاتی جدوجہد اور امیج ہے۔ سیاست میں آنے سے پہلے عمران خان ایک عالمی شہرت یافتہ کرکٹر تھے جنہوں نے 1992 Cricket World Cup میں پاکستان کو فتح دلائی۔ اس کامیابی نے انہیں قوم کا ہیرو بنا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے شوکت خانم اسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے فلاحی منصوبے شروع کیے جس سے عوام میں ان کا تاثر ایک ایسے شخص کا بن گیا جو ذاتی مفاد کے بجائے خدمت کے جذبے سے کام کرتا ہے۔
دوسری اہم وجہ روایتی سیاست کے خلاف بیانیہ ہے۔ پاکستان میں برسوں تک چند سیاسی خاندان اقتدار میں آتے جاتے رہے۔ عوام کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس پیدا ہو چکا تھا کہ سیاست چند خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔ عمران خان نے اس نظام کے خلاف آواز اٹھائی اور خود کو ایک متبادل قیادت کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے بار بار احتساب، کرپشن کے خاتمے اور انصاف کے قیام کی بات کی، جس نے نوجوانوں اور متوسط طبقے کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
تیسری وجہ نوجوانوں کی حمایت ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ عمران خان نے اپنی سیاست میں نوجوانوں کو خاص اہمیت دی۔ جلسوں، سوشل میڈیا اور سیاسی بیانیے کے ذریعے انہوں نے نوجوان نسل کو یہ احساس دلایا کہ وہ ملک کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں عمران خان کے حامیوں کی بڑی تعداد نظر آتی ہے۔
چوتھی اہم وجہ سوشل میڈیا کا موثر استعمال ہے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا رائے عامہ بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ عمران خان کی جماعت Pakistan Tehreek-e-Insaf نے اس پلیٹ فارم کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ نوجوان کارکنوں اور حامیوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ان کا بیانیہ عام لوگوں تک پہنچایا جس سے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔
پانچویں وجہ قومی خودداری اور خودمختاری کا بیانیہ ہے۔ عمران خان اکثر اپنی تقاریر میں پاکستان کی خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے بارہا کہا کہ پاکستان کو عالمی طاقتوں کے دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ اس بیانیے نے عوام کے اس طبقے کو متاثر کیا جو قومی وقار اور خودداری کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
چھٹی وجہ سیاسی مشکلات اور قربانی کا تاثر ہے۔ پاکستان کی سیاست میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی رہنما کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو اس کی عوامی ہمدردی بڑھ جاتی ہے۔ عمران خان کو بھی مختلف سیاسی اور قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ان کے حامیوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کے لیڈر کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ اس تاثر نے بھی ان کی مقبولیت کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔
ساتویں اہم وجہ سادہ اور جذباتی اندازِ خطاب ہے۔ عمران خان کی تقاریر عام آدمی کو متاثر کرتی ہیں کیونکہ وہ پیچیدہ سیاسی زبان کے بجائے سادہ اور براہ راست انداز میں بات کرتے ہیں۔ وہ جلسوں میں عوامی جذبات کو ابھارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہی خوبی انہیں دیگر سیاستدانوں سے مختلف بناتی ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ مقبولیت کے ساتھ توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ عوام کسی بھی رہنما سے صرف خوبصورت نعروں کی نہیں بلکہ عملی کارکردگی کی بھی امید رکھتے ہیں۔ سیاست میں اصل امتحان اقتدار کے بعد شروع ہوتا ہے جہاں وعدوں کو عملی شکل دینا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بھی لیڈر کی حقیقی کامیابی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ عوامی اعتماد کو کس حد تک برقرار رکھ پاتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عمران خان کی مقبولیت کئی عوامل کا مجموعہ ہے—ان کی ذاتی شہرت، روایتی سیاست کے خلاف بیانیہ، نوجوانوں کی حمایت، سوشل میڈیا کی طاقت اور قومی خودداری کا پیغام۔ یہی عناصر انہیں پاکستان کی موجودہ سیاست کی ایک نمایاں اور بااثر شخصیت بناتے ہیں۔
“قیادت وہی کامیاب ہوتی ہے جو عوام کے دلوں میں امید جگا دے،
اور امید وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھا دیتا ہے۔”
سچ بولتا پاکستانی
فیاض مغل

16/03/2026

نیو جنریشن اور اولڈ جنریشن میں فرق
کالم: سچ بولتا پاکستانی — فیاض مغل
زمانہ بدلتا ہے تو اس کے ساتھ انسانوں کے انداز، ترجیحات اور سوچ بھی بدل جاتی ہے۔ ہر دور کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے۔ آج اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ اولڈ جنریشن اور نیو جنریشن کے درمیان ایک واضح فرق پیدا ہو چکا ہے۔ یہ فرق صرف لباس یا ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ سوچ، تربیت، اقدار اور طرزِ زندگی تک پھیل چکا ہے۔
اولڈ جنریشن وہ نسل تھی جو کم وسائل کے باوجود بڑے حوصلے اور مضبوط کردار کی مالک تھی۔ اس نسل کے پاس جدید موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نہیں تھا، مگر ان کے پاس تجربہ، برداشت اور خاندانی اقدار کا خزانہ تھا۔ اس زمانے میں باپ کی بات حکم سمجھی جاتی تھی، استاد کا ادب دل سے کیا جاتا تھا اور بڑے بزرگ خاندان کا سایہ سمجھے جاتے تھے۔ اولڈ جنریشن کے لوگوں کے لیے عزت، صبر اور قناعت زندگی کے بنیادی اصول تھے۔
اس کے برعکس آج کی نیو جنریشن ایک ایسے دور میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں ٹیکنالوجی، رفتار اور معلومات کی بھرمار ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک گلوبل گاؤں بنا دیا ہے۔ آج کا نوجوان دنیا بھر کی خبریں چند لمحوں میں جان لیتا ہے، نئی سوچ اور نئے آئیڈیاز سے جلد متاثر ہوتا ہے اور اپنی زندگی کو تیزی سے بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔
لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دونوں نسلوں کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ اولڈ جنریشن کو لگتا ہے کہ نئی نسل بے صبر، جلد باز اور روایات سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ نیو جنریشن کو محسوس ہوتا ہے کہ پرانی نسل ان کی سوچ کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ یوں دونوں کے درمیان ایک خاموش خلیج پیدا ہو جاتی ہے۔
اولڈ جنریشن کے دور میں زندگی سادہ تھی۔ لوگ شام کے وقت محلے میں بیٹھ کر گپ شپ کرتے تھے، خاندان کے ساتھ وقت گزارتے تھے اور خوشیاں سادگی میں تلاش کرتے تھے۔ آج کی نیو جنریشن کی زندگی زیادہ تر اسکرین کے گرد گھومتی ہے۔ موبائل اور سوشل میڈیا نے جہاں معلومات کے دروازے کھولے ہیں، وہیں تنہائی اور فاصلوں کو بھی بڑھا دیا ہے۔
یہ کہنا غلط ہوگا کہ نئی نسل مکمل طور پر غلط ہے یا پرانی نسل ہر لحاظ سے درست تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر نسل کے اپنے خوبصورت پہلو اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ اولڈ جنریشن کے پاس تجربہ اور روایات کی مضبوطی ہے جبکہ نیو جنریشن کے پاس توانائی، جدت اور نئی سوچ کی طاقت ہے۔ اگر یہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھ لیں تو معاشرہ بہت بہتر ہو سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اولڈ جنریشن نئی نسل کو صرف تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی رہنمائی کرے۔ انہیں اپنی زندگی کے تجربات سے فائدہ پہنچائے اور ان کی سوچ کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح نیو جنریشن کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بزرگوں کے تجربے اور مشوروں کو نظر انداز نہ کرے کیونکہ زندگی کے کئی سبق کتابوں یا انٹرنیٹ سے نہیں بلکہ تجربے کی دھوپ اور وقت کی دھول سے ملتے ہیں۔
اگر دونوں نسلیں ایک دوسرے کے قریب آ جائیں تو معاشرے میں ایک خوبصورت توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ جہاں بزرگوں کی دانائی اور نوجوانوں کی توانائی مل کر ترقی کا راستہ بنائیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نسلوں کا فرق فطری ہے، مگر اس فرق کو دوری نہیں بلکہ ہم آہنگی میں بدلنا ہماری ذمہ داری ہے۔
“نئی سوچ بھی ضروری ہے، پرانی دانائی بھی
درخت تبھی مضبوط ہوتا ہے جب جڑیں بھی سلامت ہوں اور نئی شاخیں بھی”
سچ بولتا پاکستانی
فیاض مغل

پرانا دور واپس آئیں گا کیوں کہ حکومت کہ پاس پلین کوئی نہیں ہے نہ گیس نہ بجلی نہ پیٹرول
07/03/2026

پرانا دور واپس آئیں گا کیوں کہ حکومت کہ پاس پلین کوئی نہیں ہے نہ گیس نہ بجلی نہ پیٹرول

07/03/2026

سچ بولتا پاکستانی — فیاض مغل
بین الاقوامی سیاست میں اصول کم اور مفادات زیادہ ہوتے ہیں۔ بڑی طاقتیں اپنے فائدے کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہیں، جبکہ کمزور یا ترقی پذیر ممالک اکثر ان طاقتوں کو خوش رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں بھی کئی بار ایسا منظر دیکھنے کو ملتا ہے کہ حکمران عالمی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے حد سے زیادہ تعریف اور حمایت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کی سیاست اور پاکستان کے حکومتی رویے کو دیکھتے ہوئے یہی سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک خود مختار خارجہ پالیسی رکھتے ہیں یا پھر بڑی طاقتوں کی خوشنودی ہماری ترجیح بن چکی ہے۔
امریکہ کے سابق صدر **** اپنی شخصیت اور طرزِ سیاست کی وجہ سے دنیا بھر میں متنازع سمجھے جاتے ہیں۔ وہ ایک کاروباری شخصیت کے طور پر سیاست میں آئے اور ان کا انداز ہمیشہ کاروباری سودے بازی جیسا رہا۔ کاروبار میں منافع بنیادی مقصد ہوتا ہے، اسی طرح ٹرمپ کی سیاست میں بھی اکثر یہی جھلک نظر آتی ہے کہ جہاں انہیں فائدہ نظر آئے وہ وہی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے فیصلے اکثر غیر متوقع اور جارحانہ سمجھے جاتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں عالمی سیاست میں کئی بار تناؤ پیدا ہوا۔
پاکستان میں بعض حلقوں نے ماضی میں ٹرمپ کی حمایت کو ایک حکمت عملی سمجھا، جبکہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ ایک غلطی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آئیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ نئی حکومت نے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے حد سے زیادہ نرم لہجہ اختیار کر لیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت پر بعض ناقدین یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے عالمی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے حد سے زیادہ تعریف اور حمایت کا راستہ اختیار کیا۔ خاص طور پر جب کسی عالمی رہنما کی تعریف اس انداز میں کی جائے کہ اسے امن کا پیامبر قرار دیا جائے یا اس کے لیے بڑے اعزازات کی بات کی جائے تو عوام کے ایک حصے میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شاید یہ سب سفارتی مجبوری کے بجائے ضرورت سے زیادہ خوشامد بن چکا ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں تعریف یا سفارتی تعریف و توصیف کوئی نئی بات نہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے مثبت الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جب یہ انداز حد سے بڑھ جائے تو اسے عوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں معاشی مشکلات، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل موجود ہوں، وہاں عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ حکومت زیادہ توجہ اندرونی مسائل کے حل پر دے۔
ٹرمپ کی شخصیت کو اگر کاروباری نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ان کی سیاست میں ایک تاجر کی سوچ واضح نظر آتی ہے۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی نئے معاملے کو سامنے لے آتے ہیں اور اپنی موجودگی کو نمایاں رکھتے ہیں۔ ایک پراپرٹی ڈیلر کی طرح وہ ہر وقت نئی ڈیل یا نئے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ جس طرح ایک پراپرٹی ڈیلر ایک کامیاب سودا کرنے کے بعد اگلے سودے کے لیے متحرک رہتا ہے، اسی طرح ٹرمپ بھی مسلسل عالمی سیاست میں اپنی جگہ بنانے اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔
عالمی طاقتوں کی یہی حکمت عملی اکثر چھوٹے ممالک کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ جب بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے فیصلے کرتی ہیں تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اس کی ایک مثال ہے جہاں سیاسی کشیدگی اکثر عالمی معیشت اور امن کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ متوازن اور محتاط خارجہ پالیسی اختیار کریں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد قومی مفاد ہونا چاہیے۔ اگر کسی عالمی رہنما کی تعریف یا حمایت اس مفاد کے تحت ہو تو اسے سفارتی حکمت عملی کہا جا سکتا ہے، لیکن اگر یہ تاثر پیدا ہو کہ ہم صرف خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں تو پھر یہ عوامی سطح پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔
آج کا پاکستانی شہری پہلے کی نسبت زیادہ باخبر ہے۔ سوشل میڈیا اور آزاد ذرائع ابلاغ کی وجہ سے عوام عالمی سیاست کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے رہنماؤں کے فیصلوں کا تجزیہ بھی کر رہے ہیں۔ اسی لیے حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے بیانات اور اقدامات کریں جو قومی وقار اور خود مختاری کے مطابق ہوں۔
آخرکار ایک حقیقت واضح ہے کہ دنیا میں عزت اسی قوم کو ملتی ہے جو اپنے مفاد اور اصولوں پر قائم رہتی ہے۔ سفارت کاری میں توازن اور وقار دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ اگر ہم صرف خوشامد کو اپنی پالیسی بنا لیں تو وقتی فائدہ تو ہو سکتا ہے لیکن طویل مدت میں اس کا نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
سیاست میں اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ کوئی بھی حکومت یا سیاسی جماعت تنقید سے بالاتر نہیں ہوتی۔ عوام کو حق ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے فیصلوں پر سوال اٹھائیں اور بہتر پالیسیوں کا مطالبہ کریں۔ یہی عمل ایک مضبوط اور باوقار ریاست کی بنیاد بنتا ہے۔

07/03/2026

سچ بولتا پاکستانی — فیاض مغل
دھرتی غریب آباد سے غریبوں کی ترجمانی
پاکستان اس وقت ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات کی کمی کا شکار ہیں، اور دوسری طرف حکمران طبقے کی شاہانہ طرزِ زندگی کے قصے زبان زدِ عام ہیں۔ یہی تضاد عام آدمی کے دل میں سوال پیدا کرتا ہے کہ آخر یہ کیسا نظام ہے جس میں قربانی ہمیشہ غریب سے مانگی جاتی ہے اور سہولتیں ہمیشہ طاقتور طبقے کے حصے میں آتی ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں پیٹرول، بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ عوام کو بار بار بتایا جاتا ہے کہ ملک کے حالات مشکل ہیں، خزانہ خالی ہے، قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔ لیکن یہی عوام جب حکمرانوں کے اخراجات دیکھتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ قربانی کا بوجھ صرف عام آدمی کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔
حال ہی میں سرکاری اخراجات کے حوالے سے یہ بات زیرِ بحث آئی کہ حکومتی استعمال کے لیے اربوں روپے مالیت کا نیا طیارہ خریدا گیا، جس کی دیکھ بھال، ایندھن اور عملے کے اخراجات بھی کروڑوں روپے بنتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس جہاز کے لیے بیرون ملک سے ماہر پائلٹ بھی رکھے گئے جن کی تنخواہیں ہزاروں ڈالر ماہانہ بتائی جاتی ہیں۔ جب ایک ایسے ملک میں جہاں کروڑوں لوگ بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں، اس طرح کے اخراجات سامنے آتے ہیں تو عوام کے دل میں فطری طور پر سوال اٹھتے ہیں۔
پاکستان کا عام شہری آج جس مہنگائی سے گزر رہا ہے وہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک کربناک حقیقت ہے۔ ایک مزدور جو دن بھر محنت کر کے چند ہزار روپے کماتا ہے، اس کے لیے گھر کا بجٹ بنانا کسی جنگ سے کم نہیں۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں اور سبزیاں سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔ پیٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں اور اس کا اثر ہر چیز کی قیمت پر پڑتا ہے۔
عوام کو بار بار بتایا جاتا ہے کہ یہ سب عالمی حالات کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو گیا ہے، کرنسی کمزور ہو گئی ہے اور قرضوں کی شرائط سخت ہو گئی ہیں۔ یہ باتیں کسی حد تک درست بھی ہو سکتی ہیں، لیکن عوام کا سوال یہ ہے کہ اگر حالات واقعی اتنے مشکل ہیں تو پھر حکمران طبقہ اپنے اخراجات میں کمی کیوں نہیں کرتا؟
پاکستان میں طبقاتی فرق ہمیشہ سے موجود رہا ہے، لیکن وقت کے ساتھ یہ فرق مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے لیے مہنگائی صرف خبروں کی سرخی ہے، اور دوسری طرف وہ کروڑوں لوگ ہیں جن کے لیے مہنگائی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں احساسِ محرومی بڑھتا جا رہا ہے۔
عام آدمی جب دیکھتا ہے کہ امیر کے پالتو جانور بھی بہترین خوراک اور سہولیات سے محروم نہیں ہوتے جبکہ غریب کے بچے تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں تو اس کے دل میں نظام کے خلاف غصہ پیدا ہونا فطری بات ہے۔ یہ غصہ صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے، کیونکہ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو انصاف اور برابری فراہم کرے۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حکمران طبقے اور عوام کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ بڑھ گیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں نکلے۔ معاشروں میں استحکام اسی وقت آتا ہے جب حکمران خود بھی وہی مشکلات برداشت کریں جو عوام برداشت کرتے ہیں۔ اگر حکمران سادگی اختیار کریں اور قومی وسائل کو عوام کی فلاح پر خرچ کریں تو عوام بھی مشکل فیصلوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
مسئلہ صرف ایک جہاز یا ایک سرکاری خرچ کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے۔ اگر ریاستی وسائل کا استعمال شفاف اور عوامی مفاد میں ہو تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہو۔ لیکن جب عوام کو یہ محسوس ہو کہ وسائل کا بڑا حصہ صرف طاقتور طبقے کی سہولتوں پر خرچ ہو رہا ہے تو پھر اعتماد کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے عوام محبِ وطن ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں قربانیاں دی ہیں۔ جنگیں ہوں، قدرتی آفات ہوں یا معاشی بحران، عوام نے ہمیشہ صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن ہر صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر انصاف اور برابری کا احساس ختم ہو جائے تو معاشرے میں بے چینی پیدا ہونا لازمی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکمران طبقہ عوام کے جذبات کو سمجھے۔ ملک کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں قانون سب کے لیے برابر ہو، وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو اور حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھیں نہ کہ حاکم۔ اگر ایسا نہ ہوا تو طبقاتی خلیج مزید بڑھتی جائے گی اور اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑیں گے۔
پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں۔ اگر عوام کو انصاف، روزگار اور بنیادی سہولتیں مل جائیں تو یہ ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکمران طبقہ اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرے اور یہ ثابت کرے کہ ریاست واقعی اپنے شہریوں کے لیے ہے، نہ کہ صرف چند طاقتور طبقات کے لیے۔
یہ آواز کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ اس پاکستان کی ہے جہاں کروڑوں لوگ بہتر زندگی کی امید رکھتے ہیں۔ اور یہی امید ایک دن اس ملک کو ایک منصفانہ اور متوازن معاشرے کی طرف لے جا سکتی ہے۔

03/03/2026

مرد وہ ہے جو خدمتِ خلق کرے — سچ بولتا شہری فیاض مغل
آج کے دور میں مردانگی کی تعریف بدلتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے شور میں، برینڈڈ کپڑوں کی چمک میں، اور وقتی شہرت کی دوڑ میں اصل مردانگی کہیں کھو سی گئی ہے۔ مونچھیں الٹی رکھ لینے، لمبی داڑھی سجا لینے، یا مہنگے ملبوسات پہن کر ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانے سے کوئی مرد نہیں بن جاتا۔ مرد وہ ہے جو اپنے زورِ بازو سے حق کا ساتھ دے، جو کمزور کا سہارا بنے، اور جس کی موجودگی سے طاقتور بھی نا حق سے ہاتھ کھینچ لے۔
اسلام نے مرد کو صرف جسمانی طاقت کا نام نہیں دیا بلکہ کردار، دیانت، اور ذمہ داری کا پیکر بنایا ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے مردانگی کی جو مثال پیش کی، وہ خدمت، صبر، اور عدل کی تھی۔ آپ ﷺ نے کبھی اپنی طاقت کو ظلم کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیا۔ یہی وہ معیار ہے جس پر ہر مرد کو خود کو پرکھنا چاہیے۔
بدقسمتی سے آج ہم نے مردانگی کو صرف ظاہری شکل و صورت سے جوڑ دیا ہے۔ نوجوان سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی جسامت مضبوط ہے، بالوں کا اسٹائل منفرد ہے، یا وہ مہنگی گاڑی میں گھومتے ہیں تو وہ معاشرے کے ہیرو ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کے محلے کا کوئی غریب ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟ کیا کسی یتیم کے سر پر انہوں نے ہاتھ رکھا؟ کیا کسی بیوہ کی مدد کی؟ اگر نہیں، تو یہ سب دکھاوا ہے۔
مرد وہ ہے جو گھر کا کفیل ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کا ذمہ دار فرد بھی ہو۔ جو اپنے بچوں کو صرف آسائش نہیں بلکہ اخلاق بھی دے۔ جو اپنی بیوی اور ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، کیونکہ جو عورتوں کا احترام نہیں کر سکتا وہ مرد کہلانے کا حق دار نہیں۔ مرد وہ ہے جو غصے میں بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑے اور طاقت ہونے کے باوجود معاف کر دے۔
ہماری تاریخ ایسے مردوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی بہادری کو خدمت کے لیے استعمال کیا۔ حضرت عمرؓ راتوں کو گشت کرتے تھے تاکہ کسی کے گھر میں بھوک نہ رہے۔ انہوں نے اپنی خلافت کو شان و شوکت کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ عوام کی خدمت کو اپنا فخر سمجھا۔ یہی اصل مردانگی ہے کہ اختیار ہو مگر غرور نہ ہو، طاقت ہو مگر ظلم نہ ہو۔
آج اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو معاشرہ کمزوروں کی آہوں سے گونج رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، اور نا انصافی نے عام آدمی کو پریشان کر رکھا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنے دائرے میں کھڑا ہو کر حق کی آواز بلند کرے۔ اگر بازار میں کوئی دکاندار ناجائز منافع خوری کر رہا ہے تو اس کے سامنے سچ بولنا بھی مردانگی ہے۔ اگر کوئی بااثر شخص کمزور پر ظلم کر رہا ہے تو اس کے خلاف کھڑا ہونا ہی اصل بہادری ہے۔
مرد وہ نہیں جو سوشل میڈیا پر جذباتی تقاریر کرے، بلکہ وہ ہے جو عملی قدم اٹھائے۔ جو اپنے علاقے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دلانے کی کوشش کرے، جو تعلیم کے لیے آواز اٹھائے، جو انصاف کے لیے جدوجہد کرے۔ مرد وہ ہے جس کی وجہ سے محلہ محفوظ ہو، جس کی موجودگی میں کسی کو ڈر نہ لگے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو بھی یہی سبق دینا ہوگا کہ مردانگی فیشن نہیں، ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کو صرف ظاہری شان و شوکت سکھائی اور کردار کی تربیت نہ کی تو کل کو وہ بھی اسی دوڑ کا حصہ بن جائیں گے جہاں دکھاوا اصل اور حقیقت ثانوی ہو جاتی ہے۔ ہمیں انہیں سکھانا ہوگا کہ سچا مرد وہ ہے جو اپنے والدین کا فرمانبردار، اپنی اولاد کا شفیق، اور معاشرے کا مخلص خادم ہو۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مردانگی کی تعریف دوبارہ زندہ کریں۔ اپنی ذات سے آغاز کریں۔ اپنے ہاتھوں کو خدمت کے لیے، اپنی زبان کو سچ کے لیے، اور اپنے قدموں کو حق کے راستے کے لیے وقف کر دیں۔ یاد رکھیں، طاقت اللہ کی امانت ہے، اور امانت میں خیانت مردانگی نہیں بزدلی ہے۔
آخر میں میں یہی کہوں گا کہ مرد وہ ہے جس سے کمزور فیض یاب ہو اور طاقتور نا حق سے دور رہیں۔ مرد وہ ہے جو اپنے کردار سے پہچانا جائے، نہ کہ اپنے لباس سے۔ مرد وہ ہے جو سچ کا علمبردار ہو، خدمت کا پیکر ہو، اور عدل کا محافظ ہو۔
یہی پیغام ہے، یہی آواز ہے —
سچ بولتا شہری
فیاض مغل

02/03/2026

سچا بولتا شہری — فیاض مغل
ٹرمپ کا جنگی جنون اور امتِ مسلمہ کی بے بسی
بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج دنیا ایک بار پھر طاقت کے نشے میں چور قیادتوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ خصوصاً جب بات امریکا کی سیاست کی ہو تو جنگی بیانیہ اور عالمی بالادستی کی خواہش کھل کر سامنے آتی ہے۔ Donald Trump کے دورِ اقتدار میں جو پالیسی سامنے آئی، وہ “امریکا فرسٹ” کے نام پر دراصل طاقت کے استعمال اور معاشی دباؤ کی حکمت عملی تھی۔ اس پالیسی نے مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور دیگر مسلم خطوں کو براہِ راست یا بالواسطہ متاثر کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ قصور صرف باہر والوں کا ہے یا ہم نے بھی اپنی کمزوریوں سے حالات کو اس نہج تک پہنچایا؟
مسلمان ممالک کو ایک ایک کر کے کمزور کیا جا رہا ہے، کہیں پابندیوں کے ذریعے، کہیں اندرونی انتشار کو ہوا دے کر اور کہیں براہِ راست جنگ کے ذریعے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ لالچ کی وجہ سے مارے گئے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی زن، زر اور زمین کو مقصد بنایا گیا، ہم نے حق کا راستہ چھوڑا اور وقتی فائدے کے لیے اجتماعی نقصان مول لیا۔ ہمیں تھوڑے سے مفادات دے کر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا جاتا ہے اور ہم کھڑے بھی ہو جاتے ہیں۔
آج امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ دشمن طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ انصاف ہمارے معاشروں سے ناپید ہو چکا ہے۔ حق دار کو حق نہیں ملتا، سفارش اور رشوت کلچر بن چکے ہیں۔ ہم نے اللہ کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا اور وہ قوانین اپنانے لگے جو ہمارے اجتماعی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ دنیا سنبھلی نہ آخرت کی تیاری رہی۔
ہم سچی بات سننا نہیں چاہتے۔ جو آواز حق بلند کرتی ہے اسے یا تو دبا دیا جاتا ہے یا غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ ہم غلام ابنِ غلام بنتے جا رہے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ نئی نسل سے بھی غلامی کی توقع رکھتے ہیں۔ نوجوان سوال کرتے ہیں تو ہمیں ان کی آنکھوں میں بغاوت نظر آتی ہے۔ وہ انصاف مانگتے ہیں تو ہمیں اپنی کرسی خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔ ہم نہ ان کا احتجاج ماننے کو تیار ہیں، نہ انہیں حکمرانی میں شریک کرنے پر آمادہ ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ امتِ مسلمہ کا اتحاد ٹوٹ چکا ہے۔ ہم نے فرقوں، قومیتوں اور سرحدوں کو اس قدر اہم بنا لیا کہ “امت” کا تصور پسِ پشت چلا گیا۔ ڈالر ہماری کمزوری بن گیا۔ جو طاقت معاشی دباؤ ڈالتی ہے، ہم اس کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ ہم وقتی دنیاوی فائدے کے لیے دائمی نقصان قبول کر لیتے ہیں۔ جب وقت کھڑا ہونے کا تھا، ہم مفادات کی میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب حق کی آواز بلند کرنی تھی، ہم خاموشی کی چادر اوڑھے رہے۔
اللہ دوغلے پن اور نفاق کو پسند نہیں کرتا۔ ہم زبان سے کچھ اور کہتے ہیں اور عمل کچھ اور کرتے ہیں۔ ہم اسلام کے نام پر سیاست کرتے ہیں مگر سیاست میں اسلام کی روح کو شامل نہیں کرتے۔ ہم دین کو نعروں تک محدود رکھتے ہیں، کردار میں نہیں لاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری دعاؤں میں تاثیر کم اور آزمائشیں زیادہ ہو گئی ہیں۔
آج اگر امریکا یا کوئی اور طاقت اپنی پالیسیوں کے ذریعے مسلم دنیا پر دباؤ ڈالتی ہے تو ہمیں سب سے پہلے اپنا احتساب کرنا ہوگا۔ کیا ہمارے حکمران واقعی عوام کے نمائندے ہیں؟ کیا ہمارے نظام میں انصاف ہے؟ کیا ہم نے تعلیم، معیشت اور تحقیق کے میدان میں خود کو مضبوط کیا؟ یا ہم صرف بیانات اور قراردادوں تک محدود ہیں؟
نجات کا راستہ واضح ہے مگر آسان نہیں۔ ہمیں بطور قوم سچ کا سامنا کرنا ہوگا۔ کرپشن کے خلاف عملی اقدامات، میرٹ کی بحالی، عدل کا قیام اور نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہوگا۔ اتحاد محض تصویروں اور کانفرنسوں سے نہیں آتا، بلکہ مشترکہ مفادات، مشترکہ حکمتِ عملی اور مشترکہ قربانی سے پیدا ہوتا ہے۔
امتِ مسلمہ کو ایک بار پھر نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ ہمیں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا، انصاف کو زندہ کرنا ہوگا اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
دنیا کی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی رہیں گی۔ مگر ہمیں طے کرنا ہے کہ ہم کب تک استعمال ہوتے رہیں گے۔ جب تک ہم اندر سے مضبوط نہیں ہوں گے، باہر کی کوئی طاقت ہمیں عزت نہیں دے گی۔ عزت مانگنے سے نہیں، کردار اور اتحاد سے ملتی ہے۔
یہ وقت بیداری کا ہے۔ یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ اگر ہم نے اپنے رویے بدل لیے تو دنیا بھی بدلے گی۔ ورنہ ہم شکایتیں کرتے رہیں گے اور تاریخ ہمیں کمزور قوم کے طور پر یاد رکھے گی۔
سچا بولتا شہری
فیاض مغل

22/02/2026

سچ بولتا شہری
تحریر: فیاض مغل
پندرہ سو روپے کا سوٹ اور دو ہزار روپے سلائی۔ جب ٹیلر ماسٹر سے بات کریں تو وہ کہتا ہے بجلی مہنگی ہو گئی ہے، بکرم، دھاگہ، بٹن سب مہنگے ہو گئے ہیں۔ بات کسی حد تک درست بھی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس سارے نظام میں سستا صرف کون ہے؟ سستا صرف غریب ہے۔ جس کی محنت سستی، جس کی عزت سستی، جس کا خون پسینہ سستا — اور جس کی زندگی سب سے سستی۔
عید آتی ہے تو خوشی کا پیغام لاتی ہے، مگر غریب کے دروازے پر دستک دیتی ہے تو خوشی سے پہلے حساب کتاب آ کھڑا ہوتا ہے۔ ایک دیہاڑی دار یا کم تنخواہ لینے والا شخص اگر پندرہ سو روپے کا سوٹ خریدے اور دو ہزار سلائی دے، تو ایک فرد کے پانچ ہزار بن جاتے ہیں۔ اگر پانچ افراد کا خاندان ہو — تین بچے اور میاں بیوی — تو صرف کپڑوں پر پچیس ہزار روپے درکار ہیں۔ کیا یہ رقم ایک عام مزدور یا کلرک کے لیے معمولی ہے؟
رمضان کا مہینہ ہو تو سحری اور افطاری کا خرچ الگ۔ پھل لینے جائیں تو عام سا عام فروٹ تین سو روپے کلو سے کم نہیں۔ اچھا فروٹ تو خواب بن چکا ہے۔ دودھ اور دہی کے ریٹ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، اور خالص مل جائے تو نعمت سمجھیں۔ چینی، آٹا، گھی — سب کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں دس ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا جاتا ہے، وہ بھی سب کو نہیں ملتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا دس ہزار میں کسی خاندان کا رمضان اور عید گزر سکتی ہے؟
حکومت کہتی ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں، ڈالر مہنگا ہو گیا ہے، آئی ایم ایف کا دباؤ ہے۔ لیکن عام آدمی کے لیے یہ سب اصطلاحات نہیں، اس کے لیے تو بس خالی جیب حقیقت ہے۔ وہ روز بازار جاتا ہے اور قیمتیں بدلتی دیکھتا ہے۔ اس کے بچے عید کے کپڑوں کی فرمائش کرتے ہیں اور وہ نظریں چرا لیتا ہے۔ اس کی بیوی بجٹ بناتے بناتے آنکھوں میں آنسو لیے بیٹھ جاتی ہے۔
دوسری طرف دکاندار بھی اپنی مجبوری سناتا ہے۔ وہ کہتا ہے کرایہ بڑھ گیا، بجلی کا بل زیادہ آتا ہے، ٹیکس بڑھ گئے ہیں۔ ہیر ڈریسر اپنی عیدی الگ مانگتا ہے، درزی اپنی محنت کا جواز دیتا ہے، سب اپنے اپنے حساب سے درست ہیں۔ مگر اس پورے دائرے میں پستا کون ہے؟ وہی غریب جس کی آمدن وہی پرانی ہے مگر اخراجات دوگنے، تین گنے ہو چکے ہیں۔
ریاست کو ماں کہا جاتا ہے۔ ماں وہ ہوتی ہے جو اپنے کمزور بچے کو سہارا دیتی ہے، اس کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتی ہے۔ مگر آج عام شہری سوچنے پر مجبور ہے کہ ریاست ماں کا کردار ادا کر رہی ہے یا سود خور کا؟ بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار، گیس کی قیمتوں میں اضافہ، پٹرول کی بڑھتی قیمتیں — یہ سب کس کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے؟ وہی شہری جو پہلے ہی بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ سب کچھ ایک دن میں بدل جائے گا۔ نہ یہ کہ حکومت کے پاس کوئی چابی ہے جو گھماتے ہی مسائل حل ہو جائیں گے۔ مگر سوال نیت کا ہے، ترجیحات کا ہے۔ کیا واقعی عام آدمی کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے؟ کیا ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی ہوتی ہے یا صرف بیانات تک محدود رہتی ہے؟ کیا سرکاری اخراجات میں کمی کی جاتی ہے یا بوجھ ہمیشہ عوام پر ڈالا جاتا ہے؟
ایک معاشرہ تب تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک اس کا کمزور طبقہ مضبوط نہ ہو۔ اگر غریب عید پر اپنے بچوں کو نئے کپڑے نہ پہنا سکے، اگر وہ رمضان میں دو وقت کی باعزت روٹی کا بندوبست نہ کر سکے، تو ترقی کے دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ سڑکیں بنانا، پل تعمیر کرنا، میٹرو چلانا اپنی جگہ اہم سہی، مگر سب سے اہم انسان ہے — اور انسان کی بنیادی ضرورت روٹی، کپڑا اور چھت ہے۔
سچ بولتا شہری یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا پالیسی سازی میں کبھی اس مزدور کا چہرہ سامنے رکھا جاتا ہے جو گرمی میں اینٹیں اٹھاتا ہے؟ کیا اس بیوہ کا خیال کیا جاتا ہے جو سلائی کر کے بچوں کا پیٹ پالتی ہے؟ کیا اس ریٹائرڈ بزرگ کا درد سمجھا جاتا ہے جس کی پنشن مہنگائی کے سامنے بے بس ہے؟
اگر ریاست واقعی ماں ہے تو اسے اپنے کمزور بچوں کے لیے ڈھال بننا ہو گا۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات، بنیادی اشیائے خورونوش پر سبسڈی، بجلی اور گیس کے بلوں میں حقیقی ریلیف، تعلیم اور صحت کے اخراجات میں کمی — یہ سب خواب نہیں، ضرورت ہیں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب عام آدمی کی خاموشی چیخ میں بدل جائے گی۔
عید خوشی کا نام ہے، مگر خوشی تب ہی مکمل ہوتی ہے جب سب شریک ہوں۔ اگر ایک طبقہ برانڈڈ کپڑوں میں ملبوس ہو اور دوسرا طبقہ بچوں کی فرمائش پوری نہ کر سکے، تو یہ معاشرتی توازن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
ریاست کو سوچنا ہو گا کہ وہ اپنے شہری کو قرضوں اور ٹیکسوں کے جال میں الجھا کر ترقی کرے گی یا اس کے کندھے سے بوجھ اتار کر۔ فیصلہ وقت کرے گا، مگر سوال آج بھی وہی ہے: ریاست ماں کا کردار ادا کرے گی یا سود خور کا؟
سچ بولتا شہری یہی پوچھتا ہے — اور جواب کا منتظر ہے۔

21/02/2026

ڈیجیٹل نسل بمقابلہ جنریشن وائے — سوچ کا بدلتا ہوا موسم
ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں صرف عمر کا فرق نہیں، ذہن کا فرق بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف جنریشن وائے (Millennials) ہے اور دوسری طرف جنریشن زیڈ (Gen Z) — جسے عام طور پر ڈیجیٹل نسل کہا جاتا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کون بہتر ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کس نے کیسا زمانہ دیکھا اور کس نے کیسی دنیا میں آنکھ کھولی؟
جنریشن وائے: روایات اور تبدیلی کے بیچ پھنسی نسل
تقریباً 1981 سے 1996 کے درمیان پیدا ہونے والی Millennials وہ نسل ہے جس نے اینالاگ سے ڈیجیٹل تک کا سفر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بچپن میں کیسٹ، وی سی آر اور لینڈ لائن فون دیکھے، اور جوانی میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سیکھا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کو ایجاد ہوتے دیکھا، اپنایا اور سمجھا۔
اس نسل کی ایک نمایاں خصوصیت ادب و احترام ہے۔ بڑوں کی بات ماننا، چاہے دل مطمئن نہ بھی ہو، ان کے تربیتی ڈھانچے کا حصہ رہا۔ گھروں میں “چپ رہو، بڑے بات کر رہے ہیں” ایک جملہ نہیں، ایک اصول تھا۔ اس لیے اگر سسٹم میں خرابی بھی دکھائی دی تو اکثر خاموشی کو ترجیح دی گئی۔ نوکری کو عزت سمجھا گیا، سرکاری ملازمت کو کامیابی کی معراج مانا گیا، اور خطرہ مول لینے کے بجائے استحکام کو ترجیح دی گئی۔
یہ نسل تبدیلی چاہتی تھی، مگر آہستہ۔ سوال کرتی تھی، مگر نرم لہجے میں۔ احتجاج بھی کیا، مگر حدود کے اندر رہ کر۔ ان کے لیے فیس بک انقلاب تھا، آن لائن جاب ایک اضافی سہولت، اور بیرونِ ملک جانا کامیابی کی علامت۔
جنریشن زیڈ: سوال کرتی ہوئی، ڈیجیٹل میں پیدا ہونے والی نسل
1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی Generation Z ایک مختلف مٹی کی بنی ہوئی لگتی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس نے اسمارٹ فون کو کھلونا نہیں، ضرورت سمجھ کر استعمال کیا۔ ان کے لیے انٹرنیٹ کوئی ایجاد نہیں، فطری ماحول ہے۔ یہ یوٹیوب سے سیکھتی ہے، آن لائن کورسز کرتی ہے، اور فری لانسنگ کو کیریئر سمجھتی ہے۔
یہ نسل “کیوں؟” سے آغاز کرتی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ “ایسا ہی ہوتا آیا ہے”، تو ان کا جواب ہوتا ہے: “مگر کیوں ہوتا آیا ہے؟” یہ روایتی سسٹم پر سوال اٹھاتی ہے — کیوں ہم دہائیوں سے پیچھے ہیں؟ کیوں ہمارے نصاب میں ڈیجیٹل اسکلز نہیں؟ کیوں ہم صرف دوسروں کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں، بناتے نہیں؟
یہ خاموشی کو کمزوری سمجھتی ہے۔ اگر بڑوں کی بات غلط لگے تو احترام کے ساتھ مگر واضح اختلاف کرتی ہے۔ یہ نسل ذہنی صحت، ذاتی آزادی اور خود مختاری کو اہم سمجھتی ہے۔ نوکری سے زیادہ اسکل کو اہمیت دیتی ہے۔ ایک لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کنکشن کے ساتھ دنیا سے مقابلہ کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔
فرق صرف عمر کا نہیں، تجربے کا ہے
جنریشن وائے نے سسٹم کو قبول کر کے اس میں جگہ بنانے کی کوشش کی۔ جنریشن زیڈ سسٹم کو بدلنے کی بات کرتی ہے۔ پہلی نسل نے کمپیوٹر سیکھا؛ دوسری نسل کو کوڈنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس بچپن سے معلوم ہے۔ پہلی نسل کے لیے آن لائن بزنس ایک آپشن تھا؛ دوسری کے لیے یہ مستقبل ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم نکتہ بھی ہے۔ جنریشن وائے نے مشکلات کے دور میں استحکام پیدا کیا۔ انہوں نے معاشی دباؤ، سیاسی ہلچل اور محدود مواقع میں بھی خاندان سنبھالا۔ ان کی خاموشی کو کمزوری کہنا آسان ہے، مگر وہ اپنے وقت کے حالات کا نتیجہ تھے۔ دوسری طرف جنریشن زیڈ کو عالمی مقابلہ، تیز رفتار معلومات اور بے شمار مواقع میسر ہیں — مگر دباؤ بھی اتنا ہی زیادہ ہے۔
پاکستان کے تناظر میں سوال
ہمارا مسئلہ صرف نسلوں کا نہیں، نظام کا بھی ہے۔ اگر 78 سال بعد بھی ہم بنیادی ڈیجیٹل مہارتوں کو نصاب کا حصہ نہیں بنا سکے، تو یہ کسی ایک نسل کی ناکامی نہیں۔ یہ اجتماعی کوتاہی ہے۔ ہم اب بھی دوسروں کی ایپس استعمال کرتے ہیں، مگر اپنی عالمی سطح کی پروڈکٹس کم بناتے ہیں۔ ہم ٹیکنالوجی کے صارف زیادہ، تخلیق کار کم ہیں۔
جنریشن زیڈ کا غصہ اسی خلا سے جنم لیتا ہے۔ وہ پوچھتی ہے کہ ہمیں آن لائن کمائی کیوں نہیں سکھائی گئی؟ ہمیں عالمی مارکیٹ میں داخل ہونے کا راستہ کیوں نہیں دکھایا گیا؟ یہ سوال تلخ ہیں، مگر ضروری ہیں۔ اور شاید یہی سوال تبدیلی کی ابتدا ہیں۔
تصادم نہیں، تعاون کی ضرورت
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کون صحیح ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا دونوں نسلیں ایک دوسرے کو سمجھنے کو تیار ہیں؟ جنریشن وائے کا تجربہ اور استحکام، اور جنریشن زیڈ کی جرات اور ڈیجیٹل مہارت — اگر یہ دونوں مل جائیں تو تصویر بدل سکتی ہے۔
بزرگ نسل کو یہ ماننا ہوگا کہ سوال کرنا بدتمیزی نہیں، شعور کی علامت ہے۔ اور نئی نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر روایت کی جڑ میں کوئی نہ کوئی تجربہ ہوتا ہے۔ اگر ہم نے صرف تنقید کی اور پل نہ بنایا تو خلا بڑھتا جائے گا۔
آج کی دنیا میں طاقت ہتھیار سے نہیں، ہنر سے آتی ہے۔ جس دن ہم نے تعلیم، ٹیکنالوجی اور کردار کو یکجا کر لیا، اس دن نسلوں کی یہ بحث ثانوی ہو جائے گی۔ کیونکہ تب مقصد ایک ہوگا: دنیا سے مقابلہ نہیں، دنیا میں مقام۔
وقت کا پہیہ گھوم رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سی نسل جیتے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم مل کر جیتنا چاہتے ہیں؟
(سچ بولتا شہری) فیاض مغل

Address

Rawalpindi

Telephone

+923365010923

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fayyaz Mughal official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Fayyaz Mughal official:

Share

Category