17/07/2026
کیا اپ اس درویش کو جانتے ہیں؟ اگر نہیں تو میری پوسٹ پوری پڑھیں اود مجھے فالو کریں.
تصویر سے یہ لگتا ہے کہ یہ گاؤں کے ایک عام سے بندے ہیں لیکن یہ صوبہ سرحد کے کئی اضلاع بشمول ایبٹ اباد کے ڈپٹی کمشنر اور مختلف اہم پوسٹوں پہ رہے, لیکن زندگی ساری فقیرانہ گزاری.
یہ تھے, آل رسول کے اک روشن چراغ سید فدا حسین شاہ اف سرائے صالح, ضلع ہری پور. شاہ صاحب درویش طبیعت کے مالک تھے۔ ماشاءاللہ انکے سارے بچے آج بہت کامیاب ہیں. ایک بیٹے پشاور میں ڈپٹی سیکرٹری ہیں. ایک بیٹے ٹیچر ہیں سید تراب علی شاہ, آجکل PSHT.ہیں۔۔GPS..شاہ محمد سکول میں.
ان کی فقیرانہ اور عاجزانہ زندگی کے چند واقعات درج ذیل کرتا ہوں.
یہ ایبٹ آباد میں جب ڈی سی تھے اور واپسی پر جب بس میں سوار ہوے تو سیٹ نہیں ملی کنڈیکٹر نے چھت پر بٹھا دیا۔ ان دنوں بس کی چھتوں پر سواریاں بٹھایا کرتے تھے۔ گاڑی اڈے سے نکلی تو تھوڑے فاصلے پر ٹریفک پولیس نے چھت پر سواریاں بٹھانے کی وجہ سے گاڑی روکی تو ان کی نظر شاہ صاحب پر پڑی تو۔۔۔ ٹھکا ٹھک سلیوٹ شروع ھو گئے ۔۔کنڈیکٹر اور باقی سواریاں حیران رہ گئے کہ کس کو سلیوٹ کر رہےہیں ۔۔۔ پولیس نے انہیں نیچے اتارنے کی کوشش کی لیکن وہ دیگر سواریوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہے اور سرائے صالح پہنچے۔۔۔
رانا فقیرالدین لکھتے ہیں "زمانہ طالبعلمی کی بات ہے۔پشاور سے ہری پور کے لیے جی ٹی ایس (گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس ) میں بیٹھا تھا۔ایک بزرگ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ان کے پاس کپڑے کا تھیلا تھا اور میرے پاس چھوٹا بیگ۔اٹک چیک پوسٹ پر پولیس نے گاڑی روکی اور ایک باوردی ملازم گاڑی میں داخل ہوا اور مسافروں پر نظر دوڑانے لگا۔اس بزرگ کے تھیلے کو ٹٹولا اوربولا آپ تھیلے سمیت نیچے اتریں۔میں نے ہلکا سا احتجاج کیا تو بولا تم بھی بیگ کے ساتھ نیچے آو۔دونوں کو،ساتھ والے خیمے میں لے گیا ۔اندر بیٹھے افسر سے بولا کہ یہ بزرگ چینی سمگل کر رہا ہے۔اس وقت چینی کی قلت تھی اور پا بندی تھی۔بزرگ بولا پانچ کلو چینی ہے ،گھریلو استعمال کے لیے لے جا رہا ہوں۔سمگلنگ، سمگلنگ ہوتی ہے ،آپ پر جرمانہ ہو گا ۔کتنا؟بولا ایک ہزار،لیکن اگر جرمانے سے بچنا ہے تو پانچ سو میں مک مکا کرتے ہیں۔بزرگ غصے میں آیا ،اپنا کارڈ نکالا ،کارڈ پر نظر پڑھتے ہی اہلکاروں کو کرنٹ لگا اوربولے سر آپ؟میں تمھیں اسی وقت معطل کرواتا ہوں ۔مجھے ساتھ لے کر دوبارہ گاڑی میں سوار ہوئے۔مجھے حیرت میں مبتلا دیکھ کر بولےمیں ڈپٹی کمشنر ہوں۔میں مزید حیرت سے بولا ،پبلک ٹرانسپورٹ میں؟بولے کبھی سرکاری گاڑی گھر لے کر نہیں گیا۔ہری پور سے سرائے صالح سوزوکی سے چلا جاتا ہوں۔میں نے پوچھا سر آپ کا نام ؟بولے ۔۔سید فدا حسین شاہ آف سرائے صالح ہری پور۔"
ان کے بھتیجے مجاہد علی شاہ بتاتے ہیں کہ " وہ میرے تایا تھے. خود جب ڈی سی ایبٹ آباد تھے تو آنکی بیٹی کی شادی تھی. تو میرے والد صاحب نے بولا کہ آپکی گاڑی پر بچی کی ڈولی حویلیاں چھوڑ آتے ہیں ۔ غصے سے ڈانٹ دیا میرے والد صاحب کو, کہ سرکار کی گاڑی ان کاموں کے لیے نہیں ہے۔ جاؤ جا کر کرائے کی گاڑی بک کروا لیں۔"
مرحوم ایک نہایت باکردار، اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے اور سخت گیر آفیسر تھے لیکن عام زندگی میں نہایت سادہ طبیعت تھے عام لباس اور عام پلاسٹک کے چپلوں میں دفتر چلے جایا کرتے تھے ۔ اور وہ جو کپڑوں کے اوپر واسکٹ پہنتے تھے اس پر سامنے ایک واضح پیوند لگا ہوتا تھا.
آپ ڈپٹی کمشنر کوہاٹ تھے کسی دوست کی سفارش کرنے ان کے سگے چھوٹے بھائی ان کے پاس گئے. حال احوال پوچھنے کے بعد بھائی سے آنے کی وجہ پوچھی تو پولیس والے سے کہا اس کو گرفتار کر لو یہ سفارش لے کر آیا ھے ۔ بڑی مشکل سے مسرور شاہ صاحب جان چھڑا کر واپس آئے ۔
بھٹو دور میں آپ ڈپٹی کمشنر کوہاٹ تھے تو گورنر کوہاٹ کے دورے پر آئے جب ھیلی کاپٹر سے اترا تو پوچھا ڈپٹی کمشنر کہاں ھے میرا استقبال کیوں نہیں کیا انتظامیہ پریشان ھو گئی ادھر ادھر نظر دوڑائی تو دیکھا ڈپٹی کمشنر صاحب کو اپنے سادہ عام لباس کی وجہ سے پولیس والے ھیلی پیڈ میں داخل نہیں ھونے دے رھے ۔ جس کی وجہ سے گورنر نے آپ کو معطل کردیا۔
جناب شمریز صاحب سابقہ سٹیشن ماسٹر ہری پور ریلوے اسٹیشن کے بتاتے ہیں کہ "شاہ صاحب کا گھر اسٹیشن کے قریب ہی تھا اکثر ان کو بازار سے سودا سلف پیدل ہاتھ میں یا آٹے کی بوری سر پہ اٹھا کے لے کر جاتے ہوئے دیکھا ہے. بہت ہی ملنسار, عاجز اور نیک انسان تھے.
سب قارئین سے درخواست ہے کہ درود شریف اور سورہ فاتحہ پڑھ کر شاہ صاحب کو ایصال ثواب کریں اور اپنی دعاؤں میں اس ناچیز کو بھی شامل رکھیں. رب تعالئ سے قوی امید ہے کہ شاہ صاحب اج کل رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور اپنے جد امجد مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دست شفقت تلے جنت الفردوس کے اعلی درجے پہ فائز ہوں گے. جزاکم الخیر.