17/11/2022
اسلامی قانون وراثت
اسلام سے پہلے کے زمانے میں عرب میں ورثہ صرف مردوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ اسلام ہر وارث کا حصہ مقرر کرتا ہے اور وراثت کی بنیاد قریبی رشتہ داری قرار دیتا ہے نہ کہ ضرورت مند کی ضرورت۔ قریبی رشتہ داری سے مراد خون کا رشتہ یا نکاح کا رشتہ ہے۔
رسول اللہ کے پاس حضرت سعد بن الربيع کی بیوہ نے شکایت کی کہ میرا شوہر آپ کے ہمراہ غزوہ احد میں شریک تھا اور شہید ہو گیا۔ اس کی دو بیٹیاں ہیں۔ ان کے چچا انہیں کچھ نہیں دے رہے۔ اگر ان لڑکیوں کے پاس کچھ نہیں ہو گا تو ان کی شادی نہیں ہو سکے گی۔ اس پر آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ کے حکم پر ورثہ کا دو تہائی حصہ سعد بن الربيع کی بیٹیوں کا اور آٹھواں حصہ بیوہ کا قرار پایا اور لگ بھگ 20 فیصد حصہ چچاوں میں تقسیم ہو
ورثہ تقسیم کرنے سے پہلے
کفن دفن کے اخراجات نکال لیے جائیں۔
سارے قرضے اتار دیے جائیں جس میں ادھار، مہر، زکوۃ اور چھوڑے ہوئے روزوں کا کفارہ شامل ہے۔
ہبہ۔ کوئی بھی چیز کسی کو بھی دینے کی آزادی۔ زندگی میں دی گئی چیز واپس نہیں لی جا سکتی۔
وصیت۔ یہ زبانی بھی ہو سکتی ہے اور تحریری بھی- یہ ورثے کی کل مقدار کا ایک تہائی تک ہو سکتی ہے۔ یہ مرنے کے بعد ہی دی جاتی ہے اور وارثوں کو نہیں مل سکتی۔
ورثے کی تقسیم
• مرد اور عورت دونوں حقدار ہوتے ہیں۔
• متوفی سے پہلے مرا ہوا فرد متوفی کا وارث نہیں ہوتا۔
• عموماً مرد کا حصہ عورت کے حصے کا دگنا ہوتا ہے۔ (مردوں پر مہر اور خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہوتی ہے)
• قران نے چھ طرح کا حصہ مقرر کیا ہے یعنی 1/8, ¼, ½, 1/6, 1/3, 2/3
• کبھی کبھی ایک وارث کی موجودگی سے دوسرے وارث کے حصے پر فرق پڑتا ہے۔ اسے حجاب کہتے ہیں۔
• ورثہ کم ہو یا زیادہ تقسیم کرنا لازم ہے۔
• اگر کوئی وارث ورثہ تقسیم ہونے سے پہلے مر جائے تو اس کا حصہ اس کے وارثوں کو ملتا ہے۔[3]
سگے بھائی کو سگی بہن سے دگنا ملتا ہے اسی طرح سگے پوتے کو سگی پوتی سے دگنا ملتا ہے۔ ایک باپ سے ہونے والے سوتیلے بھائی بہنوں میں بھی بھائی کو بہن سے دو گنا ملتا ہے مگر ایک ماں سے سوتیلے بھائی بہن (uterine brother and uterine sister) کو برابر برابر ملتا ہے۔
اسلامی قانون وراثت میں متوفی کے بیٹے/بیٹی کا حق پہلے ہے پھر متوفی کے باپ کا پھر متوفی کے بھائی یا بھتیجوں کا اور پھر متوفی کے چچا کا۔
ایک بھی سگا یا سوتیلا بھائی (باپ کی طرف سے ) موجود ہو تو کسی سگے یا سوتیلے چچا کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
لیکن اگر سوتیلا بھائی ماں کی طرف سے ہے تو چچا بھی ورثے میں حقدار ہو سکتے ہیں