10/05/2026
معروف امریکی اداکارہ میلیسا بریرا نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ غزہ اور فلسطینی عوام کے حق میں ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، چاہے اس مؤقف کے باعث انہیں اپنے فلمی کیریئر میں مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
نیو یارک میں ایک حالیہ انٹرویو کے دوران میلیسا بریرا نے انکشاف کیا کہ اکتوبر 2023 کے بعد فلسطین کے حق میں سوشل میڈیا پر آواز بلند کرنا، امدادی روابط شیئر کرنا اور انسانی حقوق کے حوالے سے کھل کر بات کرنا ان کے لیے پیشہ ورانہ سطح پر بھاری ثابت ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ انہی سرگرمیوں کے باعث انہیں ہالی ووڈ فرنچائز کی فلم ’’Scream 7‘‘ سے الگ کر دیا گیا، جبکہ ان کی ٹیلنٹ ایجنسی WME نے بھی ان سے راہیں جدا کر لیں۔
اداکارہ کے مطابق ان کی فلسطین کے حق میں پوسٹس کو بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں غلط طور پر ’’یہود مخالف‘‘ قرار دینے جیسے الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤقف صرف انسانیت، امن، آزادی اور مظلوموں کے حقوق کے لیے ہے۔
میلیسا بریرا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ خاموشی اختیار کرنے پر یقین نہیں رکھتیں، اور جب دنیا میں ایسے لوگ موجود ہوں جنہیں آواز اور حمایت کی ضرورت ہو تو ایسے وقت میں خاموش رہنا ممکن نہیں۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ مستقبل میں بھی غزہ اور فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرتی رہیں گی۔ اداکارہ کے مطابق وہ اب اپنی تخلیقی آزادی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی پروڈکشن کمپنی قائم کرنے پر بھی غور کر رہی ہیں، جہاں وہ ایسے فنکاروں کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہیں جو انسانی حقوق اور فلسطین کے مسئلے پر واضح مؤقف رکھتے ہوں۔
Disclaimer: This report is based on statements and interviews attributed to actress Melissa Barrera as reported in various media sources.