18/01/2026
کوئی بھی جرم یکدم نہیں ہوتا۔۔
کوئی انتھائی حد تک ویسے نہیں پہنچتا ۔۔
اگر آج پشاور یونیورسٹی میں تربیت کے بجائے ، لعن طعن مخلوط ڈانس پارٹیاں اور پختون عورت سر سے دوپٹہ اتار کر نیم برہنہ غیر محرم لوگوں کے سامنے واک کرتی نظر آرہی ہے ۔۔
اور پھر سوشل میڈیا کی زینت بن رہی ہے تو یہ ڈائریکٹ نہیں ہوا ۔۔
ایک مخصوص طبقہ عرصہ دراز سے ڈانس پارٹیاں میوزک و قوالی نائٹس وغیرہ کررہی تھی انہیں منع کیا جاتا تو کہتے کہ منع کرنے والے انتھاپسند ہیں۔۔
حالانکہ اندازہ تھا کہ
یہی سب کچھ آگے بڑھ کر
ایک ایسی فحاشی کا روپ اختیار کریں گی
جو بے عزتی ورسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔
ملاکنڈ یونیورسٹی میں ناچنے والے پروفیسر
کو ہیرو کہنے والے
ہمیں بتائے نا
کہ نیم برہنہ ہوکر بال کھول کر
غیر لڑکوں کے سامنے واک کرتی
یہ لڑکی بھی انکے روایات کا حصہ ہے ۔۔
یہی تو مسئلہ ہے کہ جڑ سے صفائی نہیں کروگے تو گندگی ختم ہی نہیں ہوگی۔۔
اس فحاشی کی جڑ یہی موسیقی نائٹ یہی ڈانس پارٹیاں یہ رباب ہاتھ میں لیکر فخر سے اسکو روایات کہنے والے ہیں ۔۔
اسلئے آج جس پر قوم کو افسوس ہے
اسکی جڑ کو کاٹنا پڑے گا۔۔
ان ٹنگ ٹکور کے پروگرامات کرنے والوں کو روکنا ہوگا تب ہی آئندہ ہم ایسے واقعات نہیں دیکھ سکیں گے ۔۔۔
اور یقین کریں آج اگر اسکو برا نہیں کہا گیا تو کل اس سے بھی برا ہوگا یہی سلسلہ آگے بڑھ کر مزید بڑی فحاشی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔۔۔۔
پھر کہتے ہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ والے کیوں بند کرتے ہیں ایسے پروگرامز ؟
ہم اسلیے بند کرتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں کہ پورے قوم کو ایسے دن نہ دیکھنے پڑیں اور بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔
عبدالوحید یوسفزئی