21/04/2026
وراثت کی جائیداد کو قانونی طور پر تقسیم کرنے اور قبضے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے حوالے سے مکمل رہنمائی درج ذیل ہے:
1. وراثت کی تقسیم کے لیے قانونی راستے (Legal Forums)
پاکستان میں جائیداد کی تقسیم کے لیے دو اہم فورمز موجود ہیں:
سول عدالت (Civil Court): یہ شہروں میں موجود پلاٹوں، مکانات، دکانوں اور فلیٹس کی تقسیم کے لیے موزوں ہے۔ یہاں "دعوٰی تقسیمِ جائیداد" (Suit for Partition) دائر کیا جاتا ہے۔
ریونیو عدالت (Revenue Court/Tehsildar): زرعی یا دیہاتی زمینوں کی تقسیم کے لیے تحصیلدار یا اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) کے پاس "درخواست برائے تقسیم" (Application for Partition) دی جاتی ہے۔ یہ عمل لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت ہوتا ہے۔
2. اگر جائیداد پر قبضہ کر لیا جائے (Remedies against Illegal Possession)
اگر کسی نے جائیداد پر غیر قانونی قبضہ کر لیا ہے یا تقسیم کے عمل میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، تو درج ذیل علاج موجود ہیں:
الف: دیوانی علاج (Civil Remedies)
دعوٰی استقرارِ حق (Suit for Declaration): عدالت سے یہ ڈیکلیریشن لینا کہ آپ اس جائیداد کے قانونی مالک ہیں اور قبضہ غیر قانونی ہے۔
دعوٰی حصولِ قبضہ (Suit for Possession): مجموعہ ضابطہ دیوانی (CPC) کے تحت جائیداد کا قبضہ واپس لینے کے لیے دعویٰ دائر کیا جاتا ہے۔
غیر قانونی بے دخلی ایکٹ (Illegal Dispossession Act, 2005): یہ ایک تیز رفتار راستہ ہے۔ اگر آپ کو حال ہی میں قبضے سے نکالا گیا ہے، تو آپ سیشن عدالت میں شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ عدالت قابض کو جیل بھیج سکتی ہے اور فوری قبضہ دلوا سکتی ہے۔
3. اعلیٰ عدلیہ (Supreme Court & High Court) کے اہم فیصلے
عدالتِ عظمیٰ نے وارثوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے واضح اصول طے کیے ہیں:
قبضے کے خلاف تحفظ (PLD 2018 SC 300): سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایک شریک وارث (Co-sharer) کا قبضہ تمام وارثوں کا قبضہ تصور ہوگا جب تک کہ باقاعدہ تقسیم نہ ہو جائے۔ کوئی بھی وارث دوسرے کو زبردستی بے دخل نہیں کر سکتا۔
وراثت اور میعاد (2017 SCMR 1461): عدالت نے واضح کیا کہ وراثت کے مقدمات میں وقت کی کوئی قید (Limitation) نہیں ہے۔ اگر کوئی قابض یہ کہے کہ وہ 20 سال سے قابض ہے اس لیے اب ملکیت اس کی ہے، تو وراثت کے معاملے میں یہ عذر قبول نہیں ہوگا۔
خواتین کا حق (2021 SCMR 462): سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ بھائیوں کا بہنوں کی جائیداد پر قبضہ غیر قانونی ہے اور عدالتیں ایسی صورت میں سخت ترین ایکشن لیں۔
4. قانونی چارہ جوئی کا طریقہ کار (Step-by-Step Guide)
ریکارڈ کا حصول: سب سے پہلے پٹوار خانے یا کمپیوٹرائزڈ سینٹر سے جائیداد کی فردِ ملکیت اور شجرہ نسب حاصل کریں۔
قانونی نوٹس: وکیل کے ذریعے قابضین کو قانونی نوٹس بھیجیں کہ وہ جائیداد تقسیم کریں یا قبضہ چھوڑیں۔
حکمِ امتناعی (Stay Order): جیسے ہی دعویٰ دائر کریں، عدالت سے "سٹے آرڈر" کی درخواست کریں تاکہ فریقِ مخالف جائیداد کو آگے فروخت نہ کر سکے۔
کمیشن کا تقرر: عدالت ایک "لوکل کمیشن" مقرر کرتی ہے جو موقع پر جا کر جائیداد کا نقشہ بناتا ہے اور تقسیم کے لیے تجاویز دیتا ہے۔
کاپی پیسٹ کے لیے خلاصہ:
شہری جائیداد: سول کورٹ (Partition Suit)۔
زرعی جائیداد: ریونیو کورٹ (Partition Application)۔
قبضہ چھڑوانا: Illegal Dispossession Act یا Suit for Possession۔
سپریم کورٹ کا موقف: وراثت میں ہر وارث کا حق ہے اور قبضہ کسی وارث کی ملکیت کو ختم نہیں کر سکتا۔
اگر جائیداد دھوکہ دہی (Fraud) یا جعلی کاغذات کے ذریعے تقسیم کی جا چکی ہے، تو قانون اسے "باطل" (Void) قرار دیتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کے پاس دیوانی اور فوجداری دونوں راستے موجود ہیں۔
1. دیوانی علاج (Civil Remedies)
اگر تقسیم کا عمل (Partition) مکمل ہو چکا ہے لیکن اس میں آپ کا حق مارا گیا ہے، تو آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:
دعوٰی منسوخیِ دستاویز (Suit for Cancellation of Instrument): اگر کوئی تقسیم نامہ (Partition Deed) یا رجسٹری ہو چکی ہے، تو اسے Specific Relief Act کی دفعہ 39 کے تحت چیلنج کریں۔
دعوٰی استقرارِ حق (Suit for Declaration): عدالت سے یہ ڈیکلیریشن مانگیں کہ یہ تقسیم دھوکہ دہی پر مبنی ہے اور آپ کے قانونی حقوق کے خلاف ہے۔
حکمِ امتناعی (Stay Order): فوری طور پر عدالت سے Order 39 Rule 1 & 2 CPC کے تحت سٹے لیں تاکہ وہ جائیداد آگے فروخت نہ کی جا سکے۔
2. فوجداری علاج (Criminal Remedies)
اگر کاغذات میں جعلسازی ہوئی ہے، تو آپ ملزمان کو سزا دلوا سکتے ہیں:
PPC دفعہ 420 (دھوکہ دہی): جائیداد کے معاملے میں دھوکہ دہی کرنے پر۔
PPC دفعہ 468 اور 471 (جعل سازی): اگر جعلی انگوٹھے، دستخط یا جعلی کاغذات تیار کیے گئے ہوں۔
PPC دفعہ 498-A: وراثت سے محروم کرنے پر 10 سال تک قید۔
3. اعلیٰ عدلیہ (Supreme Court & High Court) کے فیصلے
پاکستانی عدالتوں نے دھوکہ دہی سے کی گئی تقسیم کو ہمیشہ مسترد کیا ہے:
سپریم کورٹ (2021 SCMR 462): عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی وارث (خاص کر خاتون) کو تقسیم کے عمل سے باہر رکھا گیا ہے، تو ایسی تقسیم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
سپریم کورٹ (PLD 2021 SC 462): اس فیصلے میں واضح کیا گیا کہ "دھوکہ دہی ہر اس عمل کو ختم کر دیتی ہے جس کی بنیاد اس پر رکھی گئی ہو" (Fraud vitiates the most solemn proceedings)۔ یعنی اگر تقسیم کا آرڈر ہو بھی چکا ہے، تو دھوکہ ثابت ہونے پر اسے منسوخ کیا جائے گا۔
لاہور ہائی کورٹ (2019 MLD 124): عدالت نے حکم دیا کہ اگر تقسیم کے وقت تمام قانونی وارثان کو نوٹس نہیں دیا گیا یا وہ شامل نہیں تھے، تو وہ تقسیم کالعدم (Void) ہے۔
4. ریونیو اتھارٹی کے پاس علاج
اگر تقسیم تحصیلدار یا اسسٹنٹ کمشنر کے ذریعے ہوئی ہے:
اپیل (Appeal): آپ اسسٹنٹ کمشنر (AC) یا کلکٹر کے پاس اس تقسیم کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
نظرِ ثانی (Review/Revision): اگر دھوکہ دہی کا علم دیر سے ہوا، تو آپ متعلقہ ریونیو افسر کو ریکارڈ کی درستی کی درخواست دے سکتے ہیں۔
ضروری کاغذات:
تقسیم نامہ یا انتقالِ تقسیم کی نقل: وہ کاغذ جس کے ذریعے غلط تقسیم ہوئی ہے۔
فردِ ملکیت: جائیداد کا موجودہ ریکارڈ۔
شجرہ نسب (FRC): یہ ثابت کرنے کے لیے کہ آپ وارث ہی
شجرہ نسب (Family Tree) وراثت کے مقدمات اور ریونیو ریکارڈ میں سب سے بنیادی دستاویز ہے۔ یہ ایک ایسا چارٹ ہے جو متوفی (فوت ہونے والے شخص) کے تمام قانونی وارثوں کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کے قانونی اور ریونیو نظام (پٹواری/تحصیلدار) میں شجرہ نسب کی تفصیلات عموماً درج ذیل ترتیب سے لکھی جاتی ہیں:
1. شجرہ نسب کا بنیادی ڈھانچہ (تفصیلی چارٹ)
وراثت کے لیے شجرہ ہمیشہ "متوفی" (جس کی جائیداد تقسیم ہونی ہے) سے شروع ہوتا ہے۔
متوفی (مرد/عورت)
┃
┣━━ بیوہ / بیوہ گان (Widows): (اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب کے نام)
┃
┣━━ اولاد (Children):
┃ ┃
┃ ┣━━ بیٹے (Sons): (سب کے نام، اگر کوئی بیٹا فوت ہو چکا ہو تو اس کے نیچے اس کے بچوں کے نام)
┃ ┃
┃ ┗━━ بیٹیاں (Daughters): (سب کے نام، چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ)
┃
┣━━ والدین (Parents): (اگر متوفی کی وفات کے وقت وہ زندہ تھے)
┃ ┃
┃ ┣━━ والد (Father)
┃ ┃
┃ ┗━━ والدہ (Mother)
┃
┗━━ دیگر وارثین (اگر اولاد نہ ہو): (بہن، بھائی وغیرہ، اسلامی شرعی قوانین کے مطابق)
2. ریونیو ریکارڈ (پٹواری) کے شجرہ میں اہم معلومات
جب پٹواری شجرہ بناتا ہے تو وہ صرف نام نہیں لکھتا بلکہ درج ذیل تفصیلات بھی شامل کرتا ہے:
ولدیت: ہر وارث کے باپ کا نام۔
حیات یا ممات: نام کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ وہ شخص "زندہ" ہے یا "فوت شدہ"۔
تاریخِ وفات: اگر کوئی وارث فوت ہو چکا ہو تو اس کی تاریخِ وفات لکھی جاتی ہے تاکہ وراثت کے استحقاق کا پتہ چل سکے۔
نکاح کا ریکارڈ: بیٹیوں کے نام کے ساتھ ان کے شوہر کا نام اور سکونت (جہاں وہ بیاہی گئی ہیں) لکھی جاتی ہے۔
3. شجرہ نسب حاصل کرنے کے ذرائع
آج کل پاکستان میں دو طرح کے شجرہ نسب قانونی طور پر معتبر مانے جاتے ہیں:
نادرا (FRC - Family Registration Certificate): یہ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق کمپیوٹرائزڈ شجرہ ہوتا ہے جس میں تمام بہن بھائیوں اور والدین کا اندراج ہوتا ہے۔
ریونیو شجرہ (Inheritance Mutation): یہ پٹواری یا گرداور دستی طور پر بناتا ہے اور نمبردار اس کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ خاص طور پر زمین کی تقسیم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
4. قانونی اہمیت (Supreme Court Judgements)
2018 SCMR 464: سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شجرہ نسب میں کسی بھی وارث (خاص کر بیٹیوں) کا نام جان بوجھ کر نکالنا ایک سنگین جرم ہے اور ایسی وراثت کو کسی بھی وقت چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
پردہ نشین خواتین کا حق: عدالتوں کے مطابق، شجرہ نسب میں نام ہونے کے باوجود اگر کسی خاتون کو حصہ نہیں دیا گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا حق ختم ہو گیا؛ وہ کسی بھی وقت اپنا قبضہ مانگ سکتی ہے۔
ضروری مشورہ:
اگر آپ کو اپنی وراثت کا کیس لڑنا ہے، تو سب سے پہلے نادرا سے FRC حاصل کریں اور پھر پٹوار خانے سے "شجرہ عکس" یا "نقلِ شجرہ" طلب کریں۔ اگر ان دونوں میں کسی کا نام غلط ہے یا غائب ہے، تو اسے سول کورٹ یا اسسٹنٹ کمشنر کے ذریعے درست کروایا جا سکتا ہے۔