Chohan Properties

Chohan Properties Chohan Properties: Where your property dreams become reality. We are offering the best real estate deals.Here we can find just the right property for you.

Expert guidance in buying, selling, and investing. 🏠💼

27/05/2026
‏زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر اصطلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔نوٹ۔۔۔۔۔ لاہور اسلام آباد کرا...
24/05/2026

‏زمین کے کھاتوں میں کھیوٹ، کھتونی، خسرہ نمبر اور دیگر
اصطلاحات کیا ہیں؟ جانیے اس تحریر میں۔

نوٹ۔۔۔۔۔
لاہور اسلام آباد کراچی جیسے بڑے شہروں میں 225 سکیر فٹ جگہ ایک مرلہ بنتی ہے

1- موضع :
یہ ایک بڑا یونٹ ہوتا ہے جو عموماَ ایک بڑے گاؤں یا ایک سے زیادہ چھوٹے گاؤں کو ملا کر بنایا جاتا ہے۔ موضع کا نام اس گاؤں یا ایریا کے نام پر ہی درج ہوتا ہے ۔
2- کھیوٹ نمبر:
جب موضع بن جاتا ہے تو اس میں بہت سارے لوگوں اور خاندانوں کی زمین شامل ہوتی ہے اس کی تقسیم مزید آسان بنانے کے لیے کھیوٹ نمبر دے دیے جاتے ہیں، مثلا یہ ایک سو ایکڑ ایک خاندان کے پاس ہے اسے ایک نمبر دے دیا کہ فلاں موضع کا یہ کھیوٹ نمبر ہے جو فلاں خاندان کے ان ان حصہ داروں کے پاس ہے۔ یا مختلف خاندانوں یا لوگوں کی زمین کو ملا کر بھی ایک کھیوٹ بنایا جاتا ہے۔ اس کا نمبر تبدیل ہو سکتا ہے جب کوئی زمین فروخت کرتا ہے یا ایسی کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو آپ کے کھیوٹ کا نمبر بدل جاتا ہے۔
3- کھتونی نمبر:
موضع بھی بن گیا، اس میں کھیوٹ نمبر بھی لگ گئے اب کھیوٹ میں بہت سارے مالکان ہیں کسی کے پاس پانچ ایکڑ ہے کسی کے پاس دس اور کسی کے پاس دو ایکڑ تو ان کو کیسے پہچانے گے کہ اس کھیوٹ میں کونسے بندے کی کتنی زمین ہے تو اس کے لیے ہر حصہ دار کو ایک کھتونی نمبر لگا دیا جاتا ہے۔ مثلا کھیوٹ نمبر 1 میں دس ایکڑ زمین ہے اور دو مالک ہیں پانچ پانچ ایکڑ کے تو ان دونوں کو الگ الگ نمبر دے دیا جائے گا پانچ پانچ ایکڑ کا جسے کھتونی نمبر کہتے ہیں۔ یہ نمبر بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے جب کوئی اپنے حصے سے فروخت کر دے کسی کو یا ایسی کوئی دوسری تبدیلی ہو۔
4- خسرہ نمبر:
اب ایک کھتونی میں جو پانچ ایکڑ تھے (جو ہم نے مثال میں لیے پانچ ایکڑ، حقیقت میں ان کی تعداد جو بھی ہو گی) ہر ایکڑ کو ایک خاص نمبر دیا جاتا ہے جو خسرہ نمبر کہلا تا ہے۔ یہ نمبر کبھی تبدیل نہیں ہوتا چاہے کوئی فروخت کرے مگر کھیت کا خسرہ نمبر ایک ہی رہے گا۔ اور اس میں کھیت کی چاروں طرف سے پیمائش بھی لکھی ہوتی ہے کہ اس خسرہ نمبر کا جو کھیت ہے اس کی لمبائی چوڑائی وغیرہ کیا ہے۔
5- مساوی: (شجرہ)
یہ موضع کا نقشہ ہوتا ہے، کہاں کس کا کھیت ہے کہاں راستہ ہے کہاں کیا ہے سب اس میں ہوتا ہے۔ پٹواری کے پاس یہ نقشہ ایک کپڑے پر بنا ہوتا ہے جسے لٹھا بھی کہا جاتا ہے۔
6- جمعبندی:
اس میں ایک موضع کے کسی کھیوٹ کی کسی کھتونی کے کس خسرہ میں کتنے مالک ہیں سب کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ اس میں یہ بھی درج ہوتا ہے کہ مالک کون ہے اور زمین کاشت کون کر رہا ہے ٹھیکہ پر یا کیسے۔ زمین کی فرد بھی اسی رجسٹر کی تفصیل کی بنیاد پر جاری ہوتی ہے۔
7- گردوری:
آپ جس رقبہ کے مالک ہیں یا مزارع ہیں اس رقبہ میں کیا کاشت ہوتا ہے یا کیا کاشت کیا ہوا ہے اس کی تفصیل بھی پٹواری درج کرتا ہے اسے گردوری کہتے ہیں۔
اہم نوٹ: زمین خریدتے وقت ہمیشہ خسرہ نمبر کی فرد کی بنیاد پر زمین خریدیں۔ مثلا فرض کریں ایک بندہ دو ایکڑ کا مالک ہے اس کا کھیوٹ نمبر 1 اور اس کے دو ایکڑ کھیوٹ نمبر 1 کی الگ الگ کھتونی نمبر 5 خسرہ نمبر 50 اوردوسرا ایکڑ کھتونی نمبر 10 میں خسرہ نمبر 100 ہیں۔ آپ اس سے ایک ایکڑ خریدنا چاہتے ہیں اور وہ آپ جو پسند کرتے ہیں اس کا خسرہ نمبر 50 ہے مگر اسے فرد اس 50 نمبر خسرہ کی نہیں بلکہ پوری رقبے کی کھیوٹ سے ملتی ہے جس میں وہ آپ کے نام ایک ایکڑ کروا دیتا ہے تو اب قانوناَ آپ اس کے دونوں ایک میں خسرہ نمبر 50 اور خسرہ نمبر 100 میں آدھے آدھے ایکڑ کے مالک بن جائیں گے اور اگر خسرہ نمبر 50فرد ہی آپ کو دے گا تو اس کی بنیاد پر وہی ایکڑ پورا آپ کے نام لگے گا۔ بیشک وہ آپ کو آپ کا پسند کیا ہوا خسرہ نمبر 50 ہی کاشت کے لیے دے رہا ہو مگر مستقبل میں آپ کے بچوں میں جھگڑا ہو سکتا ہے کہ آپ کے یا اس کے بچے کہیں آپ کا آدھا ایکڑ یہاں بول رہا ہے یہاں جاؤ ہمارا وہاں ہے ہم وہاں جائیں گے وغیرہ۔ یہ تو دو ایکڑ کی مثال تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی زیادہ ایکڑ کے مالک سے زمین خرید لیں تو بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ ایکڑ نہیں بلکہ کوئی دوسرا دیا تھا لہذا اسے کاشت کرو جا کر وہ چاہے بنجر ہو۔ اس لیے زمین لینے سے پہلے تسلی کر لیا کریں۔

جائیداد مالکان کیلئے بڑی خوشخبری 🫡🌹🤝🌺 وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی متنازعہ سیکشن 7E کو غیر آئینی قرار ...
10/05/2026

جائیداد مالکان کیلئے بڑی خوشخبری 🫡🌹🤝🌺

وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی متنازعہ سیکشن 7E کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور پراپرٹی مالکان کیلئے ایک تاریخی ریلیف سمجھا جا رہا ہے۔

سیکشن 7E کیا تھا؟

اس قانون کے تحت حکومت خالی یا غیر کرایہ شدہ جائیداد پر بھی “فرضی آمدن” تصور کرکے ٹیکس وصول کرتی تھی، چاہے مالک کو حقیقت میں کوئی آمدن حاصل نہ ہو رہی ہو۔

عدالت نے واضح کیا:
✔ وفاق صرف حقیقی آمدن پر ٹیکس لگا سکتا ہے
✔ پراپرٹی ٹیکس کا اختیار صوبوں کے پاس ہے
✔ فرضی آمدن پر ٹیکس آئین کے خلاف ہے

اس فیصلے کے بعد:
✅ سیکشن 7E کے تحت جاری کئی FBR نوٹسز غیر مؤثر ہو سکتے ہیں
✅ جائیداد مالکان کو بڑا مالی ریلیف ملے گا
✅ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں اعتماد بحال ہونے کی امید ہے

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیکس نظام کی اصل خرابی یہی ہے کہ ہر سال نئے ٹیکس لگائے جاتے ہیں مگر ٹیکس نیٹ وسیع نہیں کیا جاتا۔ سیکشن 7E بھی اسی ناکام پالیسی کی ایک مثال تھا۔

آپ کے خیال میں یہ فیصلہ معیشت کیلئے مثبت ثابت ہوگا یا حکومت نئے ٹیکس متعارف کروائے گی؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور دیں۔

We are hiring....Whatsapp ur CV +923007838804🔥👍🤝🌺💫
10/05/2026

We are hiring....
Whatsapp ur CV
+923007838804

🔥👍🤝🌺💫



Best investment opportunity.Lowest rates with high investment ratio 🤝🔥🌟💫
05/05/2026

Best investment opportunity.
Lowest rates with high investment ratio 🤝🔥🌟💫






05/05/2026

Real estate investment tips 👌

اب اپنی دکان کے مالک بننے کا سنہری موقع ! 🏢بوریوالا روڈ۔غازی آباد کی بہترین لوکیشن پر شاپس صرف 10 لاکھ سے شروع!آسان اقسا...
01/05/2026

اب اپنی دکان کے مالک بننے کا سنہری موقع ! 🏢

بوریوالا روڈ۔غازی آباد کی بہترین لوکیشن پر شاپس صرف 10 لاکھ سے شروع!

آسان اقساط کےساتھ 🫡

💸 مکمل ادائیگی پر حاصل کریں ماہانہ 10٪ تک کرایہ آمدن

📍 محفوظ سرمایہ کاری، مستقل آمدنی

📞 آج ہی رابطہ کریں:

03007838804
03247575271






30/04/2026

Best for long term investment,Ideal location.contact for more Information.



Chohan Properties

سرمایہ کاری کا سنہری موقع۔بورے والا ،چیچہ وطنی روڈ پر  بہترین لوکیشنز پر ٹاپ کلاس کمرشل منصوبہ جناح سپر  مارکیٹ،غازی آبا...
24/04/2026

سرمایہ کاری کا سنہری موقع۔
بورے والا ،چیچہ وطنی روڈ پر بہترین لوکیشنز پر ٹاپ کلاس کمرشل منصوبہ جناح سپر مارکیٹ،غازی آباد ميں ابھی 1 تا 2 مرلے کے کمرشل پلاٹ حاصل کريں وہ بھی آسان اقساط پر۔
✅آسان ترین ماہانہ اقساط
✅بہترين لوکیشن
✅ ٹی ایم اے سے منظور شدہ
✅یہ رجسٹری انتقال کے ساتھ ہے۔
✅تمام واجبات کلیئر ہیں کوئی پوشیدہ چارجز نہیں ہیں....کوئی ڈویلپمنٹ چارجز نہیں، کوئی پوزیشن چارجز نہیں ہیں۔
✅ بنیادی سہولیات اور بہت ساری سہولیات کے ساتھ ایک پروجیکٹ۔ جیسے
پانی، بجلی،24/7 سیکیورٹی، چار دیواری، سٹریٹ لائٹس، بہترین سیوریج سسٹم ، وسیع پارکنگ وغیرہ .
👇 For Booking Call Now:

WhatsApp or Call

☎️ +923007838804

21/04/2026

وراثت کی جائیداد کو قانونی طور پر تقسیم کرنے اور قبضے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے حوالے سے مکمل رہنمائی درج ذیل ہے:
​1. وراثت کی تقسیم کے لیے قانونی راستے (Legal Forums)
​پاکستان میں جائیداد کی تقسیم کے لیے دو اہم فورمز موجود ہیں:
​سول عدالت (Civil Court): یہ شہروں میں موجود پلاٹوں، مکانات، دکانوں اور فلیٹس کی تقسیم کے لیے موزوں ہے۔ یہاں "دعوٰی تقسیمِ جائیداد" (Suit for Partition) دائر کیا جاتا ہے۔
​ریونیو عدالت (Revenue Court/Tehsildar): زرعی یا دیہاتی زمینوں کی تقسیم کے لیے تحصیلدار یا اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) کے پاس "درخواست برائے تقسیم" (Application for Partition) دی جاتی ہے۔ یہ عمل لینڈ ریونیو ایکٹ کے تحت ہوتا ہے۔
​2. اگر جائیداد پر قبضہ کر لیا جائے (Remedies against Illegal Possession)
​اگر کسی نے جائیداد پر غیر قانونی قبضہ کر لیا ہے یا تقسیم کے عمل میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، تو درج ذیل علاج موجود ہیں:
​الف: دیوانی علاج (Civil Remedies)
​دعوٰی استقرارِ حق (Suit for Declaration): عدالت سے یہ ڈیکلیریشن لینا کہ آپ اس جائیداد کے قانونی مالک ہیں اور قبضہ غیر قانونی ہے۔
​دعوٰی حصولِ قبضہ (Suit for Possession): مجموعہ ضابطہ دیوانی (CPC) کے تحت جائیداد کا قبضہ واپس لینے کے لیے دعویٰ دائر کیا جاتا ہے۔
​غیر قانونی بے دخلی ایکٹ (Illegal Dispossession Act, 2005): یہ ایک تیز رفتار راستہ ہے۔ اگر آپ کو حال ہی میں قبضے سے نکالا گیا ہے، تو آپ سیشن عدالت میں شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ عدالت قابض کو جیل بھیج سکتی ہے اور فوری قبضہ دلوا سکتی ہے۔
​3. اعلیٰ عدلیہ (Supreme Court & High Court) کے اہم فیصلے
​عدالتِ عظمیٰ نے وارثوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے واضح اصول طے کیے ہیں:
​قبضے کے خلاف تحفظ (PLD 2018 SC 300): سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایک شریک وارث (Co-sharer) کا قبضہ تمام وارثوں کا قبضہ تصور ہوگا جب تک کہ باقاعدہ تقسیم نہ ہو جائے۔ کوئی بھی وارث دوسرے کو زبردستی بے دخل نہیں کر سکتا۔
​وراثت اور میعاد (2017 SCMR 1461): عدالت نے واضح کیا کہ وراثت کے مقدمات میں وقت کی کوئی قید (Limitation) نہیں ہے۔ اگر کوئی قابض یہ کہے کہ وہ 20 سال سے قابض ہے اس لیے اب ملکیت اس کی ہے، تو وراثت کے معاملے میں یہ عذر قبول نہیں ہوگا۔
​خواتین کا حق (2021 SCMR 462): سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ بھائیوں کا بہنوں کی جائیداد پر قبضہ غیر قانونی ہے اور عدالتیں ایسی صورت میں سخت ترین ایکشن لیں۔
​4. قانونی چارہ جوئی کا طریقہ کار (Step-by-Step Guide)
​ریکارڈ کا حصول: سب سے پہلے پٹوار خانے یا کمپیوٹرائزڈ سینٹر سے جائیداد کی فردِ ملکیت اور شجرہ نسب حاصل کریں۔
​قانونی نوٹس: وکیل کے ذریعے قابضین کو قانونی نوٹس بھیجیں کہ وہ جائیداد تقسیم کریں یا قبضہ چھوڑیں۔
​حکمِ امتناعی (Stay Order): جیسے ہی دعویٰ دائر کریں، عدالت سے "سٹے آرڈر" کی درخواست کریں تاکہ فریقِ مخالف جائیداد کو آگے فروخت نہ کر سکے۔
​کمیشن کا تقرر: عدالت ایک "لوکل کمیشن" مقرر کرتی ہے جو موقع پر جا کر جائیداد کا نقشہ بناتا ہے اور تقسیم کے لیے تجاویز دیتا ہے۔
​کاپی پیسٹ کے لیے خلاصہ:
​شہری جائیداد: سول کورٹ (Partition Suit)۔
​زرعی جائیداد: ریونیو کورٹ (Partition Application)۔
​قبضہ چھڑوانا: Illegal Dispossession Act یا Suit for Possession۔
​سپریم کورٹ کا موقف: وراثت میں ہر وارث کا حق ہے اور قبضہ کسی وارث کی ملکیت کو ختم نہیں کر سکتا۔

اگر جائیداد دھوکہ دہی (Fraud) یا جعلی کاغذات کے ذریعے تقسیم کی جا چکی ہے، تو قانون اسے "باطل" (Void) قرار دیتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کے پاس دیوانی اور فوجداری دونوں راستے موجود ہیں۔
1. دیوانی علاج (Civil Remedies)
اگر تقسیم کا عمل (Partition) مکمل ہو چکا ہے لیکن اس میں آپ کا حق مارا گیا ہے، تو آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:
دعوٰی منسوخیِ دستاویز (Suit for Cancellation of Instrument): اگر کوئی تقسیم نامہ (Partition Deed) یا رجسٹری ہو چکی ہے، تو اسے Specific Relief Act کی دفعہ 39 کے تحت چیلنج کریں۔
دعوٰی استقرارِ حق (Suit for Declaration): عدالت سے یہ ڈیکلیریشن مانگیں کہ یہ تقسیم دھوکہ دہی پر مبنی ہے اور آپ کے قانونی حقوق کے خلاف ہے۔
حکمِ امتناعی (Stay Order): فوری طور پر عدالت سے Order 39 Rule 1 & 2 CPC کے تحت سٹے لیں تاکہ وہ جائیداد آگے فروخت نہ کی جا سکے۔
2. فوجداری علاج (Criminal Remedies)
اگر کاغذات میں جعلسازی ہوئی ہے، تو آپ ملزمان کو سزا دلوا سکتے ہیں:
PPC دفعہ 420 (دھوکہ دہی): جائیداد کے معاملے میں دھوکہ دہی کرنے پر۔
PPC دفعہ 468 اور 471 (جعل سازی): اگر جعلی انگوٹھے، دستخط یا جعلی کاغذات تیار کیے گئے ہوں۔
PPC دفعہ 498-A: وراثت سے محروم کرنے پر 10 سال تک قید۔
3. اعلیٰ عدلیہ (Supreme Court & High Court) کے فیصلے
پاکستانی عدالتوں نے دھوکہ دہی سے کی گئی تقسیم کو ہمیشہ مسترد کیا ہے:
سپریم کورٹ (2021 SCMR 462): عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی وارث (خاص کر خاتون) کو تقسیم کے عمل سے باہر رکھا گیا ہے، تو ایسی تقسیم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
سپریم کورٹ (PLD 2021 SC 462): اس فیصلے میں واضح کیا گیا کہ "دھوکہ دہی ہر اس عمل کو ختم کر دیتی ہے جس کی بنیاد اس پر رکھی گئی ہو" (Fraud vitiates the most solemn proceedings)۔ یعنی اگر تقسیم کا آرڈر ہو بھی چکا ہے، تو دھوکہ ثابت ہونے پر اسے منسوخ کیا جائے گا۔
لاہور ہائی کورٹ (2019 MLD 124): عدالت نے حکم دیا کہ اگر تقسیم کے وقت تمام قانونی وارثان کو نوٹس نہیں دیا گیا یا وہ شامل نہیں تھے، تو وہ تقسیم کالعدم (Void) ہے۔
4. ریونیو اتھارٹی کے پاس علاج
اگر تقسیم تحصیلدار یا اسسٹنٹ کمشنر کے ذریعے ہوئی ہے:
اپیل (Appeal): آپ اسسٹنٹ کمشنر (AC) یا کلکٹر کے پاس اس تقسیم کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
نظرِ ثانی (Review/Revision): اگر دھوکہ دہی کا علم دیر سے ہوا، تو آپ متعلقہ ریونیو افسر کو ریکارڈ کی درستی کی درخواست دے سکتے ہیں۔
ضروری کاغذات:
تقسیم نامہ یا انتقالِ تقسیم کی نقل: وہ کاغذ جس کے ذریعے غلط تقسیم ہوئی ہے۔
فردِ ملکیت: جائیداد کا موجودہ ریکارڈ۔
شجرہ نسب (FRC): یہ ثابت کرنے کے لیے کہ آپ وارث ہی
شجرہ نسب (Family Tree) وراثت کے مقدمات اور ریونیو ریکارڈ میں سب سے بنیادی دستاویز ہے۔ یہ ایک ایسا چارٹ ہے جو متوفی (فوت ہونے والے شخص) کے تمام قانونی وارثوں کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کے قانونی اور ریونیو نظام (پٹواری/تحصیلدار) میں شجرہ نسب کی تفصیلات عموماً درج ذیل ترتیب سے لکھی جاتی ہیں:
1. شجرہ نسب کا بنیادی ڈھانچہ (تفصیلی چارٹ)
وراثت کے لیے شجرہ ہمیشہ "متوفی" (جس کی جائیداد تقسیم ہونی ہے) سے شروع ہوتا ہے۔
متوفی (مرد/عورت)

┣━━ بیوہ / بیوہ گان (Widows): (اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب کے نام)

┣━━ اولاد (Children):
┃ ┃
┃ ┣━━ بیٹے (Sons): (سب کے نام، اگر کوئی بیٹا فوت ہو چکا ہو تو اس کے نیچے اس کے بچوں کے نام)
┃ ┃
┃ ┗━━ بیٹیاں (Daughters): (سب کے نام، چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ)

┣━━ والدین (Parents): (اگر متوفی کی وفات کے وقت وہ زندہ تھے)
┃ ┃
┃ ┣━━ والد (Father)
┃ ┃
┃ ┗━━ والدہ (Mother)

┗━━ دیگر وارثین (اگر اولاد نہ ہو): (بہن، بھائی وغیرہ، اسلامی شرعی قوانین کے مطابق)
2. ریونیو ریکارڈ (پٹواری) کے شجرہ میں اہم معلومات
جب پٹواری شجرہ بناتا ہے تو وہ صرف نام نہیں لکھتا بلکہ درج ذیل تفصیلات بھی شامل کرتا ہے:
ولدیت: ہر وارث کے باپ کا نام۔
حیات یا ممات: نام کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ وہ شخص "زندہ" ہے یا "فوت شدہ"۔
تاریخِ وفات: اگر کوئی وارث فوت ہو چکا ہو تو اس کی تاریخِ وفات لکھی جاتی ہے تاکہ وراثت کے استحقاق کا پتہ چل سکے۔
نکاح کا ریکارڈ: بیٹیوں کے نام کے ساتھ ان کے شوہر کا نام اور سکونت (جہاں وہ بیاہی گئی ہیں) لکھی جاتی ہے۔
3. شجرہ نسب حاصل کرنے کے ذرائع
آج کل پاکستان میں دو طرح کے شجرہ نسب قانونی طور پر معتبر مانے جاتے ہیں:
نادرا (FRC - Family Registration Certificate): یہ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق کمپیوٹرائزڈ شجرہ ہوتا ہے جس میں تمام بہن بھائیوں اور والدین کا اندراج ہوتا ہے۔
ریونیو شجرہ (Inheritance Mutation): یہ پٹواری یا گرداور دستی طور پر بناتا ہے اور نمبردار اس کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ خاص طور پر زمین کی تقسیم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
4. قانونی اہمیت (Supreme Court Judgements)
2018 SCMR 464: سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ شجرہ نسب میں کسی بھی وارث (خاص کر بیٹیوں) کا نام جان بوجھ کر نکالنا ایک سنگین جرم ہے اور ایسی وراثت کو کسی بھی وقت چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
پردہ نشین خواتین کا حق: عدالتوں کے مطابق، شجرہ نسب میں نام ہونے کے باوجود اگر کسی خاتون کو حصہ نہیں دیا گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا حق ختم ہو گیا؛ وہ کسی بھی وقت اپنا قبضہ مانگ سکتی ہے۔
ضروری مشورہ:
اگر آپ کو اپنی وراثت کا کیس لڑنا ہے، تو سب سے پہلے نادرا سے FRC حاصل کریں اور پھر پٹوار خانے سے "شجرہ عکس" یا "نقلِ شجرہ" طلب کریں۔ اگر ان دونوں میں کسی کا نام غلط ہے یا غائب ہے، تو اسے سول کورٹ یا اسسٹنٹ کمشنر کے ذریعے درست کروایا جا سکتا ہے۔

Address

Sahiwal
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 20:00

Telephone

+923007838804

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chohan Properties posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chohan Properties:

Share