06/06/2026
میں
صفائی کرنے والے مزدوروں کے حقوق پامال، کم تنخواہوں اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صفائی کرنے والے عملے کے حقوق پر بھی ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔ مختلف علاقوں میں بھرتیوں کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آ رہی ہیں، جہاں بااثر افراد اپنے من پسند لوگوں کو ملازمتیں دلوا رہے ہیں، جبکہ برسوں سے کام کرنے والے اصل صفائی مزدور اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں۔
وی او
ذرائع کے مطابق کئی سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں صفائی کے شعبے میں میرٹ کے بجائے سفارش اور اثر و رسوخ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث وہ مزدور جو روزانہ سخت محنت کرکے شہروں اور محلوں کو صاف ستھرا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
متعدد صفائی کارکن نجی بنیادوں پر صرف 10 سے 15 ہزار روپے ماہانہ اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جو موجودہ مہنگائی کے دور میں انتہائی ناکافی سمجھی جاتی ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ کم تنخواہوں کے ساتھ ساتھ انہیں طبی سہولیات، سوشل سیکیورٹی، حفاظتی سامان اور دیگر بنیادی مراعات بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔
سماجی حلقوں اور مزدور تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ صفائی کرنے والے عملے کو ان کا جائز حق دیا جائے، بھرتیوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور کم از کم اجرت کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔
بائٹ کے لیے تجویز:
"ہم دن رات شہر کو صاف رکھتے ہیں، لیکن ہمیں نہ مناسب تنخواہ ملتی ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات۔ حکومت اور متعلقہ ادارے ہمارے مسائل پر فوری توجہ دیں۔"
ماہرین کے مطابق صفائی کرنے والے مزدور معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کے ساتھ انصاف کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ان کے مسائل حل نہ کیے گئے تو یہ طبقہ مزید معاشی اور سماجی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے
Social worker Mansoor Mahar Asgar Mahar