Anas Real Estate & Marketing

Anas Real Estate & Marketing Greetings, Anas Real Estate & Marketing is a well-known marketing company in Pakistan. property agent

01/05/2026
25/04/2026

شہباز حکومت کا ایسا کارنامہ کہ غریب کی کمر کی ہڈی ٹوٹ گئ ۔ خدارا کچھ تو عقل سے کام لے لیں ۔سولر ٹیکس کی پوری سچی کہانی سامنے آگئ۔

پاکستان کے عوام نے جب آسمان چھوتے بجلی بلوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا، تو انہوں نے خود اپنا راستہ نکالا۔ چھتوں پر سولر پینل لگے، گلیاں روشن ہوئیں، اور لاکھوں گھروں نے ریاستی بجلی کے چنگل سے آزادی پائی۔ صرف 2 سال کے مختصر عرصے میں پاکستان کی نیٹ میٹرڈ سولر کپیسٹی 1.3 گیگاواٹ سے بڑھ کر مارچ 2025 تک 4.9 گیگاواٹ تک جا پہنچی — یعنی تقریباً 4 گنا اضافہ۔ یہ کوئی حکومتی منصوبے کی کامیابی نہ تھی، یہ ایک عام پاکستانی کی خودانحصاری کی جیت تھی۔ لیکن جب عوام نے اپنی قسمت خود لکھنی شروع کی، تو اقتدار کے ایوانوں میں بے چینی پیدا ہو گئی۔

بجٹ 2025-26 پیش ہوا تو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ درآمد شدہ سولر پینلز پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ دلیل یہ دی گئی کہ اس سے مقامی سولر مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا۔ سننے میں یہ تجویز دیشبھکتی کی خوشبو لیے ہوئے تھی، لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے فوری ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان میں آج کی تاریخ میں کوئی بڑے پیمانے کی، ہائی ایفیشنسی سولر پینل مینوفیکچرنگ فیکٹری موجود ہی نہیں ہے۔ چند چھوٹی اکائیاں ہیں جو کم واٹ کے پینل بناتی ہیں، جن کا درآمدی ٹیکنالوجی سے کوئی مقابلہ نہیں۔ جس صنعت کا وجود ہی نہ ہو، اسے بچانے کے نام پر عوام کو کیوں سزا دی جائے؟

اس اعلان کے خلاف پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار سولر صنعت، ماحولیاتی تنظیمیں، متوسط طبقہ اور خود پارلیمنٹ کے ارکان ایک صف میں کھڑے ہو گئے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ فنانس کمیٹیوں نے متفقہ طور پر 18 فیصد ٹیکس مسترد کر دیا۔ دلیل صاف تھی — ایک طرف عوام بجلی کے ناقابلِ برداشت بلوں سے تنگ ہو کر سولر کی طرف آئے تھے، اور دوسری طرف یہی ٹیکس انہیں واپس اسی جہنم میں دھکیل دیتا۔ پاکستان نے پیرس معاہدے کے تحت 2030 تک اپنی 60 فیصد توانائی کلین انرجی سے حاصل کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے — اور یہ ٹیکس اس وعدے پر ایک ضرب تھی۔

دباؤ کے آگے جھکتے ہوئے حکومت نے 18 فیصد کی بجائے 10 فیصد سیلز ٹیکس پر اتفاق کر لیا۔ لیکن کیا یہ فتح تھی یا محض نقصان میں کمی؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ 10 فیصد ٹیکس بھی ایک عام گھرانے کے سولر سسٹم کی کل لاگت میں 10 سے 15 فیصد اضافہ کر دے گا۔ جو خاندان پہلے ہی قسطوں پر سولر لگانے کی کوشش کر رہے تھے، ان کے لیے یہ خواب مزید دور ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ 10 کلوواٹ سے زائد نیٹ میٹرنگ سسٹمز پر 1.75 روپے فی یونٹ گرڈ استعمال چارج بھی لگا دیا گیا ہے — گویا جس نے خرچ کر کے آزادی خریدی، اس سے اب آزادی کا کرایہ بھی وصول کیا جائے گا۔

حکومتی موقف کو یکسر مسترد کرنا انصاف نہیں ہوگا۔ ریاست کے اپنے مسائل بھی حقیقی ہیں۔ IMF کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے پروگرام میں پاکستان نے ٹیکس بیس وسیع کرنے اور سیکٹر مخصوص چھوٹ ختم کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے — اس ٹیکس سے توقع ہے کہ 20 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ سولر کے تیزی سے بڑھتے استعمال سے قومی گرڈ کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ بجلی گھروں کے ساتھ معاہدوں کی capacity payments ادا کرنا پھر بھی لازم ہے۔ صرف 2024 کے پہلے 6 ماہ میں پاکستان نے چین سے 13 گیگاواٹ کے سولر ماڈیولز درآمد کیے — یہ حجم اتنا بڑا تھا کہ پوری دنیا حیران رہ گئی۔ ریاست کا گرڈ مینجمنٹ کا فکرمند ہونا سمجھ میں آتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ فکرمندی کا بوجھ ہر بار عوام کے کندھوں پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے؟

خطے کے دیگر ممالک کا موازنہ اس پالیسی کی کمزوری مزید بے نقاب کر دیتا ہے۔ بھارت نے سولر درآمدات پر جی ایس ٹی لاگو کیا تھا، لیکن شدید مخالفت کے بعد اوسط شرح کو صرف 8.9 فیصد تک محدود کر دیا۔ بنگلہ دیش نے تو قابل تجدید توانائی کی درآمدات کو مکمل طور پر ڈیوٹی سے آزاد رکھا ہے — وہ سمجھتے ہیں کہ دیہی علاقوں تک بجلی پہنچانے کا سستا ترین راستہ یہی ہے۔ جب ہمارے ہمسایے سولر کو سبسڈی دے رہے ہیں، ہم اس پر ٹیکس لگا رہے ہیں — یہ ہماری توانائی پالیسی کا المیہ ہے یا IMF کی ہدایات کا اندھا اطاعت؟

سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے ہی ہاتھوں سے ایک عوامی انقلاب کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ وہ عوام تھے جنہوں نے کوئی سرکاری امداد لیے بغیر، کوئی قرضہ لیے بغیر، اپنی جیب سے لاکھوں روپے خرچ کر کے ملک کی توانائی کی تصویر بدل دی تھی۔ انہوں نے اپنی چھتوں کو بجلی گھر بنا لیا۔ انہوں نے لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں روشنی تلاش کی۔ اور یہ ریاست کی ناکامی کا اعتراف بھی تھا — کہ جو کام حکومت 7 دہائیوں میں نہ کر سکی، وہ عوام نے 2 سال میں کر دکھایا۔ اب اسی عوام سے ٹیکس وصولی کا منصوبہ — کیا یہ احسان کا بدلہ ہے؟

5 کلوواٹ سے کم گھریلو سولر سسٹمز ابھی بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں — اور یہ ایک مثبت پہلو ہے جسے تسلیم کرنا ضروری ہے۔ لیکن جو خاندان زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں، جن کے گھروں میں بڑے اے سی، فریج اور کاروباری ضروریات ہیں، وہ اب مہنگے سولر اور مہنگی گرڈ بجلی کے درمیان پھنسے ہیں۔ ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ اگر ٹیکس ناگزیر بھی تھا تو اسے مرحلہ وار، کم شرح پر، مقامی صنعت کے قیام سے مشروط کر کے لاگو کیا جاتا — یکمشت عائد کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ پاکستان کے کلائمیٹ اہداف کے خلاف بھی ہے۔

یہ معاملہ صرف ٹیکس کا نہیں، یہ ریاست اور عوام کے رشتے کا سوال ہے۔ جب ریاست ناکام ہوتی ہے، تو عوام خود حل نکالتے ہیں۔ اور جب عوام حل نکالتے ہیں، تو ریاست وہاں بھی پہنچ جاتی ہے — ٹیکس لے کر۔ پاکستانی قوم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مشکلات میں بھی جدت اور محنت سے اپنا راستہ نکال سکتی ہے — لیکن انہیں ریاست کی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو ان کے ساتھ کھڑی ہوں، نہ ان کے راستے میں رکاوٹ بنیں۔ سولر ٹیکس کی یہ کہانی ایک یاددہانی ہے — کہ اگر حکومت نے اپنی ترجیحات نہ بدلیں، تو عوام کا اعتماد بھی اسی رفتار سے کم ہوتا جائے گا جس رفتار سے سولر کپیسٹی بڑھی تھی۔

انسانیت کے سچے خادم ،  بے سہارا اور یتیم بچوں کی ماں محترمہ بلقیس ایدھی اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں اللہ پاک عبد الستار ...
16/04/2026

انسانیت کے سچے خادم ، بے سہارا اور یتیم بچوں کی ماں محترمہ بلقیس ایدھی اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں اللہ پاک عبد الستار ایدھی اور محترمہ بلقیس ایدھی کی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں آمین

Big thanks to مدینہ مارکیٹنگ شیخوپورہfor all your support! Congrats for being top fans on a streak 🔥!
21/03/2026

Big thanks to مدینہ مارکیٹنگ شیخوپورہ

for all your support! Congrats for being top fans on a streak 🔥!

عید مبارک
21/03/2026

عید مبارک

اہل اسلام کو چاند رات مبارک 🌙💫🎉👏💖
20/03/2026

اہل اسلام کو چاند رات مبارک 🌙💫🎉👏💖

06/03/2026

Juma mubarak

01/03/2026

•—• انا للّٰہ و انا الیہ راجعون •—•

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خمینائ رح اور انکے رفقا کی شھادت ان شا اللّٰہ امریکی و صیہونی استعمار کے تابوت کی آخری کیلیں ثابت ھو نگی۔۔۔

شھادت ھے مطلوب و مقصود ِ مومن

تم جینے کیلئے لڑتے ھو اور مومن شھادت کیلئے!

کوئ شیطانی قوت شھادت کے آرزو مندوں کو کبھی شکست نہیں دے سکتی ۔۔۔۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Gul Zameed Khan, ᏕᏂᏗᏂᎥᎴ ᏗᎷᏋᏋᏁ, میاں عظیم جالندھریا, Noor ...
27/02/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Gul Zameed Khan, ᏕᏂᏗᏂᎥᎴ ᏗᎷᏋᏋᏁ, میاں عظیم جالندھریا, Noor Hassan, Sam Ayesha, Hamza Ameen

Address

Sheikhupura
39350

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anas Real Estate & Marketing posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Anas Real Estate & Marketing:

Share