31/07/2026
نورِ صحافت: سینئر صحافی ناصر محمود رانجھا صاحب (کنڈن سیان)
تحریر محمد آصف رضا بَل گوجرہ
صحافت صرف خبر دینے کا نام نہیں، بلکہ سچائی، وقار اور دھیمے لہجے سے معاشرے کی رہنمائی کرنے کا فن ہے۔ اور جب بات ہو ہمارے علاقے کی محترم شخصیت ناصر محمود رانجھا صاحب کی، تو صحافت کا یہ روپ اور بھی نکھر کر سامنے آتا ہے۔
روزنامہ 'دنیا' سے طویل عرصے سے وابستہ ناصر محمود رانجھا صاحب ہمارے علاقے کے ان چند چیدہ اور معتبر صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی پہچان ان کی قابلیت، سنجیدگی اور نفیس مزاجی ہے۔
ان کی شخصیت کے چند نمایاں پہلو:
شائستہ طرزِ گفتگو
آپ کا نرم اور دھیما لہجہ، سنجیدہ الفاظ کا انتخاب اور بات کرنے کا مناسب انداز ہر محفل میں آپ کو ممتاز بناتا ہے۔ کم بولنا اور بہترین بولنا آپ کی دانشمندی اور فہم و فراست کا ثبوت ہے۔
پیشے سے لازوال لگن
عمر رسیدہ ہونے کے باوجود اپنے شعبے کو پورا وقت دینا اور صحافتی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے نبھانا ان کی اپنے کام سے لو اور بے مثال خلوص کو ظاہر کرتا ہے۔ روزنامہ 'دنیا' میں ان کا باوقار مقام اسی محنت کا نتیجہ ہے۔
علاقے میں عزت و احترام
اپنے مخلصانہ رویے اور غیر جانبدارانہ سوچ کی وجہ سے ناصر محمود رانجھا صاحب کو اپنے علاقے اور احباب میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ لوگ اپنے اہم فیصلوں اور محفلوں میں ان کی موجودگی اور گفتگو کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔
ناصر محمود رانجھا صاحب کا وجود نوزائیدہ صحافیوں کے لیے مشعلِ راہ اور علاقے کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو صحت، تندرستی اور درازِ عمر عطا فرمائے تاکہ ان کا سایہ اور رہنمائی ہم پر یونہی برقرار رہے۔
امین