13/05/2025
تربت: کراچی پولیس نے تربت سے لیمارکیٹ جانے والی بسوں پر پابندی عائد کردی، مسافر مشکلات کا شکار
کراچی پولیس نے تربت سے کراچی کے لیمارکیٹ ٹرمینل تک جانے والی مسافر بسوں پر پابندی عائد کردی ہے، جس کے باعث مکران سے کراچی جانے والے مسافر شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ اب تمام بسوں کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مسافروں کو صرف یوسف گوٹھ ٹرمینل پر اتاریں۔
تفصیلات کے مطابق، تربت سے کراچی جانے والی مسافر کوچز نے حالیہ دنوں میں مسافروں کی سہولت کے پیش نظر انہیں یوسف گوٹھ کے بجائے براہ راست لیمارکیٹ پہنچانا شروع کیا تھا، کیونکہ یوسف گوٹھ پر اترنے کے بعد شہر کے اندرونی علاقوں میں جانے کے لیے مسافروں کو رکشوں اور دیگر ذرائع کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ اس دوران کراچی پولیس کی جانب سے یوسف گوٹھ سے لیکر میران ناکہ، چاکیواڑہ تک انہیں مختلف بہانوں سے ہراساں اور لوٹا جاتا تھا۔
عوامی شکایات اور مسافروں کی پریشانیوں کے بعد جب کچھ ٹرانسپورٹرز نے خود سے اقدام اٹھاتے ہوئے بسیں لیمارکیٹ تک چلانا شروع کیں تو کراچی پولیس نے سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں شہر کے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ ٹرانسپورٹرز ذرائع کے مطابق، انہیں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مسافروں کو صرف یوسف گوٹھ پر ہی اتارنا ہوگا۔
مقامی عوامی حلقوں اور مسافروں نے اس پابندی کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئٹہ اور ملک کے دیگر شہروں سے آنے والی بسوں کو کراچی کے لیمارکیٹ، صدر اور دیگر علاقوں تک جانے کی اجازت حاصل ہے، مگر صرف مکران کے مسافروں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے۔
عوامی رائے کے مطابق، کراچی پولیس کی جانب سے یہ پابندی اس لیے لگائی گئی ہے تاکہ یوسف گوٹھ سے لیمارکیٹ تک کا فاصلہ پولیس کے لیے غیر قانونی کمائی کا ذریعہ بنا رہے۔ اس روٹ پر سفر کرنے والے مسافروں کو ہراساں کر کے ان سے بھاری رقوم بٹوری جاتی ہیں۔
ٹرانسپورٹ یونین کے نائب صدر رفیق قاضی نے حکومت سندھ، محکمہ داخلہ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس امتیازی پالیسی کا فوری نوٹس لیں اور مکران کے مسافروں کو دیگر شہروں کے باشندوں کے برابر سہولیات فراہم کریں۔