اندازِ بیان ہے

اندازِ بیان ہے Muhammad Raees is a student of Chemistry at Bachelor level At UOS. Still working on shaping a society in best form.be motivated

رات کے آنسواز: محمد رئیسرات کے تقریباً بارہ بجنے والے تھے۔ کچھ محرم رشتہ دار اس عورت کی ساکن پڑی لاش کو دفنانے میں مصروف...
13/05/2026

رات کے آنسو
از: محمد رئیس
رات کے تقریباً بارہ بجنے والے تھے۔ کچھ محرم رشتہ دار اس عورت کی ساکن پڑی لاش کو دفنانے میں مصروفِ عمل تھے۔ ان سب میں ایک چیز قدرے مشترک تھی اور وہ تھی خاموشی۔
"اللہ تعالیٰ نے اسلام کو کتنا پیارا نظامِ زندگی دیا ہے! جس شخص کے بغیر چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے میں دیر کر دی جاتی، اب اسی شخص کو دفنانے میں جلدی کرنے کا حوصلہ۔۔۔!" میرے دماغ میں ایک خیال کوندا۔
بیٹے، بھائی اور شوہر خود اس جسم کو زمین بوس کرنے میں لگے ہیں جس سے تعلقِ روح تھا، اب اس سے فقط مٹی کے ڈھیر کی نسبت رہ گئی تھی۔
میرے ہاتھ میں ٹارچ تھی جو غیر ارادی طور پر آن آف ہو رہی تھی۔ بالکل ایسے ہی جس طرح اس بابا کا سر لرز رہا تھا جس کی شریکِ حیات اس کی آنکھوں کے سامنے بے حس و حرکت پڑی تھی اور وہ اس سے بالکل بے خبر تھا۔ بڑھاپے کے یہ رشتے بڑے ہی مقدس اور شائستہ ہوتے ہیں۔ پھر وہ غم جو اس کی آنکھوں نے دیکھا، اس کے بعد اس کا وہ حوصلہ قابلِ داد تھا؛ اس نے اپنی زندگی کے تقریباً پورے 70 سال اس روحانی جسم کے ساتھ گزار دیے تھے اور آج وہ اسے اکیلے چھوڑ کر جا رہا تھا۔ اس کے ذہن میں ماضی کے دھندلے جھروکوں سے کچھ یادیں، کچھ رابطے، سب اس کے دماغ پہ بوجھ بن رہے تھے۔
"میت پہ مٹی ڈالی جائے!" اچانک مولوی صاحب کی آواز گونجی۔
یہ منظر تو گویا میری آنکھوں میں بیٹھ ہی گیا۔ وہ بوڑھا جسم آگے بڑھا، اپنے اطراف میں دیکھے بغیر اس جھرمٹ میں ہمت کر کے اپنے دائیں ہاتھ سے جھک کر مٹی اٹھائی اور کپکپاتے ہاتھوں سے سیمنٹ کے تراشوں پہ ڈالی۔ اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا۔ اس نے مشت بھر خاک کو نمدار کیا۔ ماضی کی ایک یاد اس میں بھگو دی۔ پھر ایک اور۔۔ پھر ایک اور۔۔ اسی طرح سے اس نے ایک تہائی یادیں دفن کر دیں۔ ایک تہائی تقریباً بھول گیا اور باقی ایک تہائی اپنی زندگی کا سرمایہ لے کر وہ قبر سے واپس مڑا۔ میں نے ٹارچ آف کر دی اور مٹی ڈالنے کے لیے آگے بڑھا۔
اس سارے ہجوم میں کھڑا میں بیس سالہ نوجوان اس بوڑھے سے زیادہ ضعف محسوس کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ سب اپنے خیالات میں مگن ہیں۔ میں نے خود کو اس ہجوم سے نکالنے کی کوشش کی۔ جسمانی نہیں، ذہنی طور پر۔ میں نے فرض کر لیا کہ یہ "مجھے" دفنا رہے ہیں۔ یہ میں نہیں کھڑا، میری روح کھڑی ہے، جو ان کی نظریں دیکھنے سے قاصر ہے۔
اور پھر یقیناً میں نے محسوس کر لیا۔ مجھے لگتا تھا کہ میرے بعد پتہ نہیں کتنا کچھ بدل جائے گا، یہ کام بھی رک جائے گا، وہ کام بھی ادھورا رہ جائے گا، لوگ دہاڑیں گے، چیخیں گے کیونکہ میں تو بڑا اچھا انسان ہوں۔ لیکن کسی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ ہاں! رسمِ تکفین ہے، قل ہے اور کچھ لوگوں کا اکٹھے ہونا، وہ بھی شاید ان کی مجبوری ہے، برادری کا مسئلہ ہے آخر۔۔۔ اتنا تو کرنا پڑتا ہے۔
اس نے اپنی روحانی حالت کو واپس بلا لیا۔ اس مدار سے خود کو فوراً نکال لیا کہ نہیں، کچھ تو ایسا ہے جو میں سکپ کر رہا ہوں۔ میں تو امر ہونا چاہتا ہوں، میں تو با مقصد آیا تھا، بے مقصد جا رہا ہوں۔ ان حالاتِ زندگی نے، ان معمولاتِ دنیا نے مجھے تو خود سے ہی کتنا ناآشنا اور دور کر دیا ہے۔ آخر میری وقعت کیوں نہیں ہے؟ میری موت پر آسمان سر پہ کیوں نہیں اٹھا لیا گیا؟ زمین کیوں نہیں اپنی جگہ سے ہل گئی؟ یہ سب کچھ تو میرے لیے ہی بنا تھا ناں۔۔
"اشرف المخلوقات تھا میں تو۔ میرے لیے تو کائنات مسخر کی گئی تھی۔ میں نے تو کسی کو پہچاننا تھا لیکن یہ سب کچھ تو اس 'تھنگز ٹو ڈو' والی لسٹ میں تھا ہی نہیں"۔
میں نے بھی مٹھی بھر مٹی اٹھائی لیکن پھینکنے کے لیے ہمت درکار تھی۔
"ایسے کیسے کوئی جا سکتا ہے؟ صرف ایک نام ہی انسان کی پہچان ہے کیا؟ وہ بھی گنے چنے لوگوں میں باقی۔ وہ بھی اب میت میں بدل گیا تھا اور ہمارے جانے پہ 'مرحوم' سے یاد کیا جائے گا۔ نہیں! یہ زندگی نہیں ہے۔ روح کی زندگی کچھ اور ہے۔ نہیں، میں اس طرح نہیں جانا چاہتا"۔
وہ واپس پلٹا۔
مآخذ: میرے ہمدم
مصنف: محمد رئیس
Rana Raees University of Sargodha Tsinghua University

Address

Sillanwali

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اندازِ بیان ہے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category