Shaffi Property Advisor

Shaffi Property Advisor We deal all kind of property Residential, Commercial, Agricultural Land and Rented houses and shops

21/09/2024

جہالت ہمیشہ بچے جنتی ہے اور یہ بچے قریہ قریہ پھیل کر جوان ہوتے ہیں اور مزید جہالت جنتے ہیں-

20/09/2024

جانبدارانہ رویہ ایک ایسی صورتحال ہے جہاں فرد یا گروہ خاص لوگوں یا گروپوں کے حق میں غیر منصفانہ طور پر سلوک کرتا ہے۔ یہ رویہ کسی بھی تنظیم یا ادارے، بشمول مساجد کی انتظامیہ، میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

اثرات:

1. اجتماعی اتحاد میں کمی: جانبداری سے لوگوں میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں، جو کہ جماعت کی وحدت کو متاثر کرتا ہے۔

2. اعتماد میں کمی: جب لوگ محسوس کرتے ہیں کہ فیصلے جانبدارانہ ہیں، تو ان کا انتظامیہ پر اعتماد کم ہو جاتا ہے۔

3. عملی کارکردگی میں رکاوٹ: جانبدارانہ رویہ باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کے مواقع سے محروم کر دیتا ہے، جو کہ مجموعی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

4. مسجد کی روحانی فضا متاثر: لوگ جانبدارانہ سلوک سے مایوس ہو کر عبادت اور مسجد کی طرف آنے میں کمی کر سکتے ہیں۔

حل:

1. شفافیت: فیصلوں میں شفافیت کو فروغ دیں، تاکہ ہر ایک جان سکے کہ فیصلے کیوں کیے جا رہے ہیں۔

2. مشاورت: مختلف افراد کی رائے شامل کریں، تاکہ سب کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع ملے۔

3. مساوات: سب کے ساتھ برابر کا سلوک کریں، چاہے ان کے تعلقات یا حیثیت کچھ بھی ہوں۔

4. معیار پر مبنی فیصلے: فیصلے ہمیشہ قابلیت اور معیار کی بنیاد پر کیے جائیں، نہ کہ ذاتی پسند کے تحت۔

خلاصہ:

جانبدارانہ رویہ کسی بھی تنظیم کی کارکردگی اور اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے شفافیت، مشاورت، اور مساوات کے اصولوں کو اپنانا ضروری ہے۔

20/09/2024

اقرباء پروری، یعنی قریبی رشتہ داروں یا دوستوں کو غیر منصفانہ طور پر فوائد دینا، کسی بھی ادارے یا تنظیم، بشمول مساجد کی انتظامیہ، میں ایک سنگین مسئلہ ہو سکتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے ادارے کی شفافیت اور اعتماد بھی متاثر ہوتے ہیں۔

اثرات:

1. عدالت میں کمی: اقرباء پروری سے دوسرے افراد کی خدمات اور قابلیت کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جس سے انصاف کا نظام متاثر ہوتا ہے۔

2. تناؤ اور بے چینی: جب لوگ محسوس کرتے ہیں کہ فیصلے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں تو اس سے اندرونی تناؤ اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔

3. موثر کارکردگی میں رکاوٹ: اگر انتظامیہ اپنے قریبی لوگوں کو اہمیت دیتی ہے تو اس سے باصلاحیت افراد کو مواقع نہیں ملتے، جو کہ ادارے کی کارکردگی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

4. مسجد کی روحانی حیثیت متاثر: اقرباء پروری مسجد کی روحانی حیثیت کو بھی متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ انتظامیہ صرف اپنے افراد کے مفادات کا خیال رکھتی ہے۔

حل:

1. شفافیت: فیصلوں میں شفافیت کو یقینی بنائیں تاکہ ہر کوئی جان سکے کہ کام کس بنیاد پر تقسیم ہو رہے ہیں۔

2. مساوات: تمام افراد کے ساتھ مساوی سلوک کریں، چاہے وہ رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔

3. مشاورت: اہم فیصلوں میں مختلف افراد کی رائے شامل کریں تاکہ سب کو شامل کیا جا سکے۔

4. معیار پر مبنی فیصلے: عہدوں یا مواقع کی تقسیم ہمیشہ معیار کی بنیاد پر کریں، نہ کہ ذاتی تعلقات کی بنا پر۔

خلاصہ:

اقرباء پروری ایک نازک مسئلہ ہے جو کسی بھی تنظیم کی شفافیت اور اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے اثرات سے بچنے کے لیے، فیصلوں میں شفافیت، مساوات، اور معیار پر مبنی عمل کو اپنانا ضروری ہے۔

20/09/2024

بچوں پر تشدد نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ اخلاقی اور انسانی اصولوں کے بھی منافی ہے۔ بچوں کی تربیت میں سختی اور جسمانی یا ذہنی تشدد کا استعمال ان کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ اسلام میں بچوں کی پرورش اور تربیت کے حوالے سے محبت، شفقت، اور نرمی پر زور دیا گیا ہے۔

اسلام میں بچوں پر تشدد کی ممانعت:

1. نرمی اور شفقت کا حکم: رسول اللہ ﷺ نے بچوں کے ساتھ نرمی اور شفقت کا سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔" (صحیح مسلم)

2. تعلیم و تربیت میں نرمی: بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم دینے میں نرمی اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔ سختی اور تشدد سے بچہ خوفزدہ ہو سکتا ہے اور سیکھنے کی رغبت کھو سکتا ہے۔

3. معاشرتی ذمہ داری: بچوں کی تعلیم و تربیت والدین اور اساتذہ کی اہم ذمہ داری ہے، لیکن اس کے لیے تشدد یا مارپیٹ کرنا غیر اسلامی ہے۔ بچوں کو محبت اور مثال کے ذریعے سکھایا جائے، تاکہ وہ اسلام کے اصولوں کو دل سے قبول کریں۔

بچوں پر تشدد کے منفی اثرات:

1. ذہنی اور جذباتی نقصان: تشدد سے بچے کے ذہن پر منفی اثر پڑتا ہے، وہ خوف اور عدم اعتماد کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کا خود پر یقین کم ہو جاتا ہے۔

2. تعلیمی کارکردگی میں کمی: جسمانی یا ذہنی تشدد بچے کی تعلیمی کارکردگی کو نقصان پہنچاتا ہے، کیونکہ وہ دباؤ اور خوف کے ماحول میں بہتر سیکھ نہیں سکتا۔

3. تشدد کا رویہ اختیار کرنا: بچوں پر تشدد کرنے سے ان میں بھی تشدد کا رجحان پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے ساتھیوں یا چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کر سکتے ہیں۔

4. اعتماد کا فقدان: بچے اپنے والدین یا اساتذہ پر سے اعتماد کھو دیتے ہیں، جس سے ان کی شخصیت میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

بچوں کے ساتھ درست رویہ:

محبت اور احترام: بچوں کے ساتھ محبت اور احترام کا سلوک کیا جائے تاکہ ان میں اعتماد اور عزت نفس پیدا ہو۔

مثبت تربیت: بچوں کو غلطیوں پر سرزنش کرنے کے بجائے انہیں ان کی غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دیا جائے۔

حکمت اور صبر: بچوں کو سمجھانے میں صبر اور حکمت سے کام لینا چاہیے، تاکہ وہ آہستہ آہستہ درست راستے پر آ سکیں۔

اسلامی تعلیمات میں بچوں کی پرورش اور تربیت میں نرمی اور شفقت کو کلیدی حیثیت دی گئی ہے۔ تشدد نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ اس سے بچوں کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے اسے کسی صورت جائز نہیں کہا جا سکتا۔

20/09/2024

اخلاق سے عاری امام ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو اسلامی تعلیمات کے برعکس رویہ اپناتا ہے اور اپنے کردار و گفتار میں ان خوبیوں سے محروم ہوتا ہے جو ایک امام میں ہونی چاہئیں۔ ایسے امام کا کردار معاشرے اور مسجد کے نمازیوں پر منفی اثر ڈالتا ہے، اور وہ دینی اور روحانی رہنمائی کا فریضہ صحیح طور پر ادا نہیں کر پاتا۔

اخلاق سے عاری امام کی علامات:

1. غیر دیانتداری: امام کا اپنی ذات میں ایماندار نہ ہونا اور مالی یا ذاتی مفاد کے لیے دین کا استعمال کرنا۔

2. سختی اور غصہ: نمازیوں یا مسجد کے لوگوں کے ساتھ سختی اور غصے سے پیش آنا، نرمی اور شفقت کا فقدان۔

3. نماز میں طوالت یا جلدی: امام کا مقتدیوں کی سہولت کا خیال نہ رکھنا، نماز کو حد سے زیادہ لمبا یا غیر ضروری طور پر مختصر کر دینا۔

4. علم میں کمی: دینی علم میں کمی ہونا یا کسی مسئلے کا درست جواب نہ دینا، جس سے لوگ گمراہ ہو سکتے ہیں۔

5. مفاد پرستی: ذاتی مفادات کو مسجد اور مقتدیوں کے مفاد پر ترجیح دینا، جیسے پیسے یا عہدے کی لالچ۔

6. عزت و احترام کی کمی: لوگوں کو عزت نہ دینا، ان کی رائے یا سوالات کو اہمیت نہ دینا۔

7. سماجی برائیوں میں ملوث ہونا: اگر امام خود جھوٹ بولے، دھوکہ دے، یا دیگر سماجی برائیوں میں ملوث ہو، تو اس کا کردار دینی لحاظ سے غیر مناسب ہوتا ہے۔

8. بدگمانی اور تنازعات: امام کا مسجد میں اختلافات یا فتنہ پیدا کرنا اور لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانا۔

اخلاق سے عاری امام کے نقصانات:

نمازیوں کی بے رغبتی: اگر امام بداخلاق ہو، تو لوگ اس کی امامت سے بدک سکتے ہیں اور مسجد میں آنے سے گریز کر سکتے ہیں۔

اعتماد کا فقدان: لوگوں کا امام پر اعتماد کم ہو جاتا ہے اور وہ اس کی باتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

معاشرتی مسائل: ایک بداخلاق امام معاشرتی اختلافات اور تنازعات کا باعث بن سکتا ہے، جس سے مسجد کا ماحول خراب ہو جاتا ہے۔

دینی تعلیمات کی غلط تشریح: امام کا اپنے علم یا اخلاق کی کمی کے باعث دینی احکام کی غلط تشریح کرنا لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہے۔

ایسے امام کی اصلاح ضروری ہے تاکہ وہ دوبارہ دینی اصولوں پر چلتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرے، ورنہ اس کے رویے کا اثر مسجد کی جماعت اور معاشرتی ہم آہنگی پر منفی پڑتا ہے۔

20/09/2024

بد قسمتی سے ہمیں responce کرنا نہیں سکھایا جاتا بلکہ react کرنا سکھایا جا رہا ہے بلکہ اس سے بھی آگےRetaliate کرنا سکھایا جا رہا ہے اور ہم چلتے پھرتے بم بنتے جا رہے ہیں اس تحریر کا مطلب آ پ کو بزدل اور لاش بنانا نہیں بلکہ یہ سمجھانا ہے کہ انسانیت کے ناطے ہمارے پیارے نبی ﷺ کا کوڑا اور اوجری پھینکنے والوں کے ساتھ رویہ کیسا تھا ۔
عدم برداشت : مہلک قومی اور دماغی بیماری
ہمارے قومی وجود کو متعدد عارضے اور بیماریاں لاحق ہیں، ان میں ایک مہلک بیماری عدم برداشت کی ہے۔ یہ بیماری ایک جگہ اور ایک قسم کے افراد میں نہیں بلکہ ہر جگہ اور ہر طبقے کو لپیٹ میں لے چکی ہے۔ ہمارے گھروں میں ہر چھوٹا بڑا، محلے کا ہر فرد، مسجد کا امام، درسگاہ کا استاد، سیاسی کارکن و رہنما، تاجر، سرکاری اہل کار،میڈیا کے لوگ، غرض جو بھی ہے ،جہاں بھی ہے، بے صبرا اور برداشت سے عاری ہے۔ اس کے باوجود ہم امن کی خواہش اور سکوں کی آرزو رکھتے ہیں، ظاہر ہے نہ یہ خواہش پوری ہوگی اور نہ یہ آرزو۔
یاد رکھیں! امن کی پہلی سیڑھی برداشت ہے۔برداشت کی تعریف یہ ہے کہ آپ دوسروں کی پسند اور نظریات سے اتفاق نہ کریں مگر پرامن معاشرے کی خاطر ان کے وجود کو تسلیم کریں، اگر کسی سے خطا سرزد ہو تو قانون کا سہارا لیں، خود قانون نافذ کرنے والا نہ بنیں۔
صبر و برداشت کے لئے تباہ کن رویہ تکرار اور کج بحثی ہے، ان عادات قبیہ کا لازمی نتیجہ تلخی اور نفرت کی صورت میں نکلتا ہے۔کاش ہمارے خاندانوں ، میڈیا، ایوان اقتدار اور منبر و محراب سے اتحاد و اخوت کی روشنی پھیلے نہ کہ نفرت کے اندھیرے جنگ کرنی ہے نفرت اور جہالت کے خلاف کریں۔

20/09/2024

ھم مساجد سے کیوں دور ہو رھے ہیں ؟؟؟

مساجد کے قاری حضرات' امام اور منتظمین کی فرعونیت اس کی سب سے بڑی وجہ ھے

20/09/2024

‏کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ ہم مسجدوں سے دور کیوں ہوگئے؟

یہ قریب قریب ہر مسجد کی کہانی ہے۔ بچوں کے ساتھ نفرت ، حقارت اور رعونت سے برتائو کیا جاتا ہے۔جدید تہذیب کی یلغار نے پہلے ہی لوگوں کو مسجد سے دور کر دیا ہے جو تھوڑے بہت اس سے وابستہ رہ گئے ہیں ان کا بچوں سے سلوک اتنا توہین آمیز ہے کہ اس کے بعد بچوں کے لیے مسجد کا رخ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ آ ج کے یہ بچے کسی پارک ، کسی شاپنگ مال ، سکول جہاں کہیں بھی جاتے ہیں انہیں خوش آمدید کہا جاتا ہے لیکن یہ مسجد چلے جائیں تو ان کی توہین اور تذلیل کی جاتی ہے۔ انہیں یوں بھگایا جاتا ہے جیسے شیطان آ گیا ہو جو اہل تقوی کی عبادات میں خلل ڈال دے گا۔

آج مسجد میں بچوں کا وجود آپ کو برداشت نہیں تو آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کل یہ جوان ہو کر مسجد کا رخ کریں گے؟ تاریخ اسلام ہمارے سامنے ہے۔ خود رحمت دو جہاں ﷺ سجدے میں تھے اور نواسہ رسول اوپر بیٹھ گئے تو آپ ﷺ نے سجدہ طویل کر دیا ۔ نہ خفا ہوئے نہ ڈانٹا۔سراپا محبت۔ سراپا شفقت۔ذرا بخاری اور مسلم کو کھول کر پڑھیے تو سہی کہ آقائے دو جہاں ﷺ کی گود میں جب امامہ بنت زینب ؓ آ کر بیٹھ جاتیں تو آپ کی نماز کا عالم کیا ہوتا تھا۔آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ مسجد میں سیدنا حسن ؓ اور سیدنا حسین ؓ تشریف لائے۔ نئے کپڑے پہن رکھے تھے اور پھسل گئے۔ آپ ﷺ نے خطبہ روک دیا ، منبر سے اترے انہیں گود میں لے لیا اور پھر واپس منبر پر تشریف لے گئے۔

ہمیں اپنے بچوں کو مساجد سے مانوس کرنا ہو گا اور اس کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے اپنے زعم تقوی کو گھر چھوڑ کر آیا کریں۔ عاجزی اور محبت سے مسجد کا رخ کیا کریں۔ہمارے بزرگ خدا جانے ہر وقت جلال میں کیوں ہوتے ہیں۔ ان کا رویہ جلادوں بلکہ دجالوں والا ہوتا ہے ۔ سریل ، سنکی اور انسان بے زار۔

میں نے مسجد میں بچوں کو ڈانٹ کھاتے ہی دیکھا ہے ۔حالانکہ انہیں پیار سے بھی بہت کچھ سمجھایا جا سکتا ہے۔ بچے تو بچے ہیں ۔ انہیں گنجائش دینا ہو گی۔

ہمارے ہاں اکثر عالم یہ ہوتا ہے کہ ریٹائرڈ بزرگان نے محلے کی مساجد میں کرفیو نافذ کر رکھا ہوتا ہے اور بچوں کا داخلہ ممنوع اور ناپسندیدہ قرار پاتا ہے۔چنانچہ مساجد خالی ہوتی جا رہی ہیں اور ہمارے شکوے بڑھتے جا رہے ہیں کہ نوجوان دین سے دور ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہم اپنے رویے بدلنے کو تیار ہیں؟

20/09/2024

‏کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ ہم مسجدوں سے دور کیوں ہوگئے؟

علی کی عمر چارسال ہے۔میرے گھر کا آنگن بہنوں کے ساتھ اس کی شرارتوں سے مہک رہا ہے۔ہمارے گھر کے قریب ہی ایک مسجد ہے۔ جو قاری صاحب گھر پر بچوں کو قرآن پڑھانے تشریف لاتے ہیں وہی اس کے امام ہیں۔ کچھ دنوں سے میں محسوس کر رہا تھا کہ علی مسجد میں دل چسپی لینے لگا ہے۔ہم سامنے سے گزر رہے ہوتے تو وہ رک جاتا اور اس کی متجسس نگاہیں مسجد کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگتیں۔ ایک دو دن کے بعد اس کا تجسس سوال میں ڈھلنے لگا : مسجد کیا ہوتی ہے؟ یہاں کون رہتا ہے؟ اسے بتایا کہ یہ اللہ کا گھر ہے اور لوگ یہاں نماز پڑھنے آتے ہیں۔اب اگلا سوال یہ تھا کہ اگر یہ اللہ کا گھر ہے اور لوگ یہاں نماز پڑھنے آتے ہیں تو آپ نماز پڑھنے مسجد کیوں نہیں جاتے؟ اذان کی آواز آتی تو وہ میرے پاس آ کھڑا ہوتا کہ اذان ہو رہی ہے آپ مسجد کیوں نہیں جاتے۔آ پ گھر میں نماز کیوں پڑھتے ہیں ؟ آپ نماز پڑھنے مسجد کیوں نہیں جاتے؟اس تکرار کے ساتھ اس نے سوال اٹھایا کہ مجھے مسجد جانا ہی پڑا۔

چند روز گزرے تو اس نے کہنا شروع کر دیا کہ اب وہ بھی مسجد جائے گا۔میں اسے مطالعاتی دورے پر مسجد لے گیا اور اسے دکھا لایاکہ مسجد ایسی ہوتی ہے۔لیکن اس کا کہنا تھا کہ اسے صرف مسجد نہیں جانا اسے وہاں جا کر دوسرے لوگوں کے ساتھ نماز بھی پڑھنا ہے۔میں نے اس سے وعدہ کر لیا کہ کل شام آپ کو بھی مسجد لے جائوں گا۔

عروہ تو اب سمجھدار ہو چکی ہے لیکن عائشہ جو ابھی کلاس ٹو کی طالبہ ہے اور ہمارے گھر کی تحریک انصاف ہے اس نے تحریک انصاف کے مخصوص اندازمیں فیصلہ سنا دیا کہ صرف علی کیوں جائے گا وہ بھی ساتھ جائے گی۔اس کے پاس ایک دلیل بھی تھی: ’’یا تو مسجد علی کا گھر ہو تو پھر صرف علی جائے۔ جب مسجد اللہ کا گھر ہے تو پھر صرف علی کیوں جائے۔میں بھی جائوں گی۔ جب اللہ صرف علی کا نہیں سب کا ہے تو اس کے گھر صرف علی کیوں جائے گاــ‘‘۔اب اس سوال کا میرے پاس تو کیا میرے پورے معاشرے کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کہ اللہ کے گھر کے دروازے لڑکیوں اور عورتوں پر کیوں بند ہیں اور روایات کو مذہب پر فوقیت کس نے دے رکھی ہے؟ بے شک عورت کا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے لیکن رسالت مآب ﷺ کا یہ فرمان ہمیں کیوں بھول گیا کہ اپنی عورتوں کو مسجد میں جانے سے مت روکو۔

خیر عائشہ کو مطمئن کر کے میں علی کو ساتھ لے کر مسجد پہنچا۔ جماعت کھڑی ہونے میں ابھی وقت تھا۔علی بہت خوش تھا۔ مسجد پہنچ کر اس نے کہا کہ مجھے تو نماز پڑھنی ہی نہیں آتی میں کیسے نماز پڑھوں گا۔ پھر خود ہی اس نے حل نکال لیا کہ میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو جائوں گا اور جیسے آپ پڑھتے جائیں گے ویسے ہی میں بھی پڑھتا جائوں گا۔

لیجیے صاحب نماز کھڑی ہو گئی۔علی میرے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ابھی پہلی رکعت ہی جاری تھی کہ ایک صاحب تشریف لائے، انہوں نے علی کو پکڑ کر پرے کر دیا اور خود میرے ساتھ کھڑے ہو گئے۔

اتنے میں ایک اور صاحب آئے ، انہوں نے اسے مزید پرے دھکیل دیا اور اس کی جگہ پر خود کھڑے ہو گئے۔

پہلی ہی رکعت میں ایک اور صاحب تشریف لائے اور انہوں نے علی کو مزید پرے دھکیل کر اس کی جگہ پر قبضہ فرما لیا۔

پھر غالبا ایک اور صاحب آئے اور انہوں نے اسے مزید پرے دھکیل دیا۔

نماز ختم ہوئی تو میں نے علی کو اپنے پاس بلایا۔ اس کی آنکھوں میں شوق ، خوشی اور تجسس کی جگہ اب پریشانی اور دکھ تھا۔آنکھوں کی نمی بتا رہی تھی کہ اس تجربے کے بعد آئندہ وہ مسجد کا رخ نہیں کرے گا۔

میرے ساتھ جو صاحب بیٹھے تھے میں نے انہیں غور سے دیکھا ۔یہ ایک نوجوان تھے۔ مجھے ان پر شدید غصہ تھا لیکن آداب مسجد مانع تھے۔ میں نے ان سے عرض کی کہ آپ کس جماعت کے خدائی فوجدار ہیں۔کہیں آپ صالحین میں سے تو نہیں جو ساری دنیا میں اسلامی انقلاب کے لیے کوشاں ہیں۔نوجوان گڑ بڑا گیا۔وہ جمعیت ہی سے تھا ۔ اس نے شائستگی سے کہا : سر کوئی غلطی ہو گئی ہے؟اس کے لہجے کی شائستگی نے میرا آدھاغصہ ختم کر دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ اس بچے کو میں مسجد نہیں لایا تھا۔ یہ بچہ مجھے مسجد لایا تھا۔آپ اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تب بھی آپ کی نماز ہو جانی تھی ۔لیکن آپ سے آپ کا زعم تقوی نہیں سنبھالا جا رہا تھا آپ نے اس کو پرے دھکیل دیا۔ ساتھ والے صاحب آپ سے بھی زیادہ نیک تھے انہوں نے اسے اور پرے دھکیل دیا ۔ اس کے بعد ایک صاحب تشریف آئے ، ان کا خیال تھا وہ آپ دونوں سے زیادہ پارسا ہیں ، انہوں نے اسے اور پرے دھکیل دیا ۔یہ بچہ شوق سے مسجد آیا تھا ، اس نے آئندہ بھی آنا تھا لیکن آج کے واقعے کے بعد یہ مسجد نہیں آئے گا۔ آپ اپنے تقوی کی روشنی میں میری رہنمائی فرما دیجیے کہ اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟

خیریت گزری کہ تینوں حضرات نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور معذرت کر لی ۔لیکن اس دن کے بعد سے آج تک علی نے مسجد کا نام نہیں لیا ۔
👇‏اس نے ایک دفعہ نہیں کہا کہ اسے مسجد جانا ہے۔ جو بچہ ابھی انگلی پکڑ کر چلتا ہو اس کو آپ کا زعم تقوی دھکیل کر اس کے باپ سے دور ایک کونے میں کھڑا کر دے تو اس عمر میں اس کے لیے اس سے خوفناک تجربہ کوئی نہیں ہو سکتا۔وہ دوبارہ اس تجربے سے کیوں گزرے؟

یہ قریب قریب ہر مسجد کی کہانی ہے۔ بچوں کے ساتھ نفرت ، حقارت اور رعونت سے برتائو کیا جاتا ہے۔جدید تہذیب کی یلغار نے پہلے ہی لوگوں کو مسجد سے دور کر دیا ہے جو تھوڑے بہت اس سے وابستہ رہ گئے ہیں ان کا بچوں سے سلوک اتنا توہین آمیز ہے کہ اس کے بعد بچوں کے لیے مسجد کا رخ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ آ ج کے یہ بچے کسی پارک ، کسی شاپنگ مال ، سکول جہاں کہیں بھی جاتے ہیں انہیں خوش آمدید کہا جاتا ہے لیکن یہ مسجد چلے جائیں تو ان کی توہین اور تذلیل کی جاتی ہے۔ انہیں یوں بھگایا جاتا ہے جیسے شیطان آ گیا ہو جو اہل تقوی کی عبادات میں خلل ڈال دے گا۔

آج مسجد میں بچوں کا وجود آپ کو برداشت نہیں تو آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کل یہ جوان ہو کر مسجد کا رخ کریں گے؟ تاریخ اسلام ہمارے سامنے ہے۔ خود رحمت دو جہاں ﷺ سجدے میں تھے اور نواسہ رسول اوپر بیٹھ گئے تو آپ ﷺ نے سجدہ طویل کر دیا ۔ نہ خفا ہوئے نہ ڈانٹا۔سراپا محبت۔ سراپا شفقت۔ذرا بخاری اور مسلم کو کھول کر پڑھیے تو سہی کہ آقائے دو جہاں ﷺ کی گود میں جب امامہ بنت زینب ؓ آ کر بیٹھ جاتیں تو آپ کی نماز کا عالم کیا ہوتا تھا۔آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ مسجد میں سیدنا حسن ؓ اور سیدنا حسین ؓ تشریف لائے۔ نئے کپڑے پہن رکھے تھے اور پھسل گئے۔ آپ ﷺ نے خطبہ روک دیا ، منبر سے اترے انہیں گود میں لے لیا اور پھر واپس منبر پر تشریف لے گئے۔

ہمیں اپنے بچوں کو مساجد سے مانوس کرنا ہو گا اور اس کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے اپنے زعم تقوی کو گھر چھوڑ کر آیا کریں۔ عاجزی اور محبت سے مسجد کا رخ کیا کریں۔ہمارے بزرگ خدا جانے ہر وقت جلال میں کیوں ہوتے ہیں۔ ان کا رویہ جلادوں بلکہ دجالوں والا ہوتا ہے ۔ سریل ، سنکی اور انسان بے زار۔

میں نے مسجد میں بچوں کو ڈانٹ کھاتے ہی دیکھا ہے ۔حالانکہ انہیں پیار سے بھی بہت کچھ سمجھایا جا سکتا ہے۔ بچے تو بچے ہیں ۔ انہیں گنجائش دینا ہو گی۔

ہمارے ہاں اکثر عالم یہ ہوتا ہے کہ ریٹائرڈ بزرگان نے محلے کی مساجد میں کرفیو نافذ کر رکھا ہوتا ہے اور بچوں کا داخلہ ممنوع اور ناپسندیدہ قرار پاتا ہے۔چنانچہ مساجد خالی ہوتی جا رہی ہیں اور ہمارے شکوے بڑھتے جا رہے ہیں کہ نوجوان دین سے دور ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہم اپنے رویے بدلنے کو تیار ہیں؟

Address

Toba Tek Singh
0092

Telephone

+923454905373

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shaffi Property Advisor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shaffi Property Advisor:

Share

Category