Reality

Reality its created fohh u.

19/03/2018
25/12/2017

میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ، ایک رویہ دیکھا ہے شادی سے پہلے بیٹیوں کے تمام ناز نخرے پورے کیے جاتے ہیں ، اگرچہ شادی کے بعد اس کی ذمہ داری شوہر پر چلی جاتی ہے مگر والدین اور بھائیوں کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہی بیٹی کو ، بہن کو شادی کے بعد جائیداد کے حق سے محروم کیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دن دِن قبل ایک خاتون کا برقی خط موصول ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خط نہیں مانو ٹھنڈا پانی تھا ، جسے پھینک کر مجھے جگایا جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کہا ...

فرمودات قائد اعظممجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد، یقینِ محکم اورتنظیم ہی وہ بنیادی نکات ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہمیں دنیا ...
25/12/2017

فرمودات قائد اعظم
مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد، یقینِ محکم اورتنظیم ہی وہ بنیادی نکات ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہمیں دنیا کی پانچویں بڑی قوم بنائے رکھیں گے بلکہ دنیا کی کسی بھی قوم سے بہتر قوم بنائیں گے (کراچی 28 دسمبر، 1947)
پوری قوم کو قائد کی سالگرہ مبارک

وزیرستان میں تعینات 4 این ایل آئی کے کرنل نے چند روز قبل ان کی یونٹ کی جانب سے پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر اہل علاقہ...
24/12/2017

وزیرستان میں تعینات 4 این ایل آئی کے کرنل نے چند روز قبل ان کی یونٹ کی جانب سے پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر اہل علاقہ سے دلی معذرت کرتے ہوئے آئندہ اس نوعیت کا واقعہ پیش نہ آنے کا یقین دلایا ہے. اہل علاقہ نے ان کے اس جذبے کو سراہتے ہوئے پاک فوج کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے. کرنل صاحب اور پاک فوج کا بہت شکریہ، اپنی غلطی تسلیم کرکے اس پر معذرت کرنا بھی بہادری والا کام ہے، پاک فوج اس بہادری پر ہمارا سلام بھی قبول کرے، انشاءاللہ آپریشن ردالفساد میں وہ ہمیں حسب سابق اپنے شانہ بشانہ پائے گی ❤️

23/12/2017

’’گرینڈ ڈائیلاگ‘‘
::::::::::::::::::::

جن دنوں نواز شریف اپنی جی ٹی روڈ یاترا پر تھے انہی دنوں چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا ایک اہم بیان آیا تھا۔ اپنے اس بیان میں انہوں نے طاقت کے تین اہم مراکز مقننہ، عدلیہ اور فوج کے مابین ایک گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز دی تھی۔ یہ بہت ہی تند سیاسی صورتحال میں ایک مثبت اور تعمیری سگنل تھا جس کا سیاسی حلقے سے آنا بجائے خود بہت اہم تھا۔ اس کے دو ڈھائی ماہ بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین پر مشتمل دفاعی کمیٹی کا ایک وفد جی ایچ کیو گیا جہاں آرمی چیف سے ہونے والی ان کی ملاقات سے مزید مثبت اور اچھے سگنلز آئے۔ ان سگنلز کی بھی اس لحاذ سے بہت اہمیت تھی کہ ملکی سیاست میں تلخی کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا تھا اور حالات کو کسی بہتری کی جانب لے جانے کے لئے اس طرح کے سگنلز کی اشد ضرورت تھی۔ اسی ملاقات کے نتیجے میں ایک بہت ہی بڑی پیش رفت یہ ہوگئی کہ سینیٹ نے سیکیورٹی صورتحال پر وزارت دفاع سے بریفنگ مانگی اور توقع یہ تھی کہ کوئی فوجی افسر آکر سینیٹ کو بریفنگ دے جائے گا۔ لیکن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع کو ایک بڑے اور تاریخی ایونٹ میں بدل کر پورے ملک کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا۔ ڈی جی ایم او کی جانب سے ڈیڑھ گھنٹے کی بریفنگ کے بعد جنرل باجوہ نے تین گھنٹے تک سینیٹرز کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن کرکے یہ بات تو بالکل واضح کردی ہے کہ وہ صرف پارلیمنٹ کی بالادستی پر ہی یقین نہیں رکھتے بلکہ بذات خود اس کے اراکین کے سوالات کا سامنا کرنے کو بھی حاضر ہیں۔ اس یاد گار سیشن کے اختتام پر سینیٹرز نے اپنے تاثرات کا جس پرجوش انداز سے اظہار کیا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملکی سیاست پر اس کے دور رس خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے اس کا سارا کریڈٹ جنرل باجوہ کو ہی جاتا ہے کیونکہ سینیٹ نے انہیں مدعو نہیں کیا تھا بلکہ یہ ان کا ہی فیصلہ تھا کہ وہ کسی افسر کو بھیجنے کے بجائے خود سینیٹ جائیں گے۔ اگر بالفرض ڈی جی ایم او ہی بریفنگ کے لئے چلے جاتے تو یہ ایک خالص دفاعی نوعیت کی بریفنگ ہوتی جس کے کوئی اثرات پڑتے بھی تو زیادہ سے زیادہ دفاعی یا خارجہ پالیسی پر پڑتے۔ جنرل باجوہ کے خود جانے کا فائدہ یہ ہوا کہ دفاعی و خارجہ امور کی بریفنگ تو بند کمرے میں رہ گئی اور جو کمرے سے باہر آیا اس نے ملکی سیاست کا اعتماد بحال کرنے میں اہم ترین کردار ادا کردیا۔

سول ملٹری کشمکش کی تاریخ طویل بھی ہے اور تلخ بھی۔ عام تاثر یہی ہے کہ اس کشمکش میں سارا قصور ملٹری کا ہی ہے جو ڈنڈے کے زور پر اپنی مرضی منوانا چاہتی ہے مگر یہ بات درست نہیں۔ قصور دونوں جانب برابر کا ہی ہے اور تاریخ نے دونوں ہی جانب کے قصور پوری احتیاط کے ساتھ سنبھال رکھے ہیں۔ بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اس صورتحال کو کسی نے ٹھیک کرنے کے لئے کوئی تعمیری قدم نہیں اٹھایا۔ دونوں جانب سے صرف بلیم گیم ہی ہوتی رہی ہے اور اس بلیم گیم کا یہ افسوسناک پہلو دیکھئے کہ حاضر سروس فوجی افسر تو اس کشمکش کے حوالے سے کسی خطاب، انٹرویو یا مضمون کی صورت فوج کا موقف پیش ہی نہیں کر سکتے سو میڈیا میں جو بھی آتا رہا وہ صرف سویلین موقف ہی رہا۔ ایک بڑی حرماں نصیبی یہ بھی رہی کہ جو فوجی افسر ریٹائرڈ ہوکر میڈیا پر جلوہ افروز ہوئے وہ بھی مناظروں میں الجھ گئے کبھی مثبت انداز سے فوج کا کوئی ایسا منظم موقف پیش نہ کرسکے جس سے اس کشمکش کے خاتمے میں کوئی مدد مل پاتی۔ یوں عوام میں ایک طرفہ بات ہی چلتی رہی جس میں صرف سویلینز کا یہ ماتم پیش ہوتا رہا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈنڈے کے زور پر سویلینز کو دبائے رکھتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ فوج کے پاس طاقت ہے اور یہ بھی درست ہے کہ کئی بار اس طاقت کا ناجائز استعمال بھی ہوا لیکن فوج ہر معاملے میں اپنی من مانی کرتی ہے یہ قطعا درست نہیں۔ بہت حساس فوجی معاملات میں بھی کئی مواقع پر فوج اپنی من مانی نہیں کر سکی۔ مثلا افغان طالبان کی سرپرستی کا معاملہ ہی دیکھ لیجئے۔ یہ محترمہ بینظیر بھٹو اور جنرل نصیر اللہ بابر کا آئیڈیا تھا کہ ہمیں افغان طالبان کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہئے۔ اس وقت کے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی دونوں ہی اس رائے کے خلاف تھے اور وہ طالبان کی سرپرستی کے حامی نہ تھے لیکن مرضی محترمہ بینظیر بھٹو کی ہی چلی اور پاکستان نے افغان طالبان کی حمایت شروع کی۔ یکطرفہ پروپیگنڈوں کا ایک نقصان یہ دیکھئے کہ افغان جہاد کے حوالے سے ہمیشہ جنرل ضیاء، جنرل اختر عبد الرحمن اور جنرل حمید گل کا نام چلا جبکہ فی الحقیقت اس جہاد کے بانی ذولفقار علی بھٹو تھے اور جنرل نصیر اللہ بابر وہ پہلے فوجی افسر تھے جن کے ہاتھ میں 1975ء میں حکمت یار، احمد شاہ مسعود اور کابل و جلال آباد یونیورسٹیز کے کچھ دیگر سٹوڈنٹس عسکری تربیت کے لئے دیئے گئے۔ بیس سال بعد جب جنرل بابر وزیر کی حیثیت سے افغان طالبان والا آئیڈیا لائے اور وہ قبول بھی ہوگیا تو انہوں نے پورے دھڑلے کے ساتھ یہ کہہ کر اسے پبلکلی اون بھی کیا کہ ’’طالبان میرے بچے ہیں‘‘یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ افغان مجاہدین ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل نصیر اللہ بابر کے جبکہ افغان طالبان محترمہ بینظیر بھٹو اور جنرل بابر کے بچے ہیں۔ سو محض افغان پالیسی کی سطح پر ہی رائے عامہ کا اتنا بڑا بلنڈر موجود ہے کہ افغان مجاہدین ہی نہیں بلکہ افغان طالبان بھی جنرل ضیاء، جنرل اختر اور جنرل حمید گل سے منسوب چلے آرہے ہیں جبکہ فی الحقیقت ان جرنیلوں نے صرف سول حکمرانوں کی افغان پالیسی میں رنگ بھرے ہیں۔اگر کوئی کہتا ہے کہ بھٹو صاحب کے پیش نظر افغان جہاد نہ تھا تو اسے بتانا ہوگا کہ بھٹو صاحب نے پھر حکمت یار وغیرہ کو کسی سیاسی اکیڈمی کے بجائے ملٹری اکیڈمی کیوں بھیجا ؟ کیا جنرل نصیر اللہ بابر اور کرنل امام انہیں ستر کی دہائی کے وسط میں پولیٹکل سائنس پڑھا رہے تھے ؟

سول ملٹری کشمکش کا حل ہماری قومی ترقی کی بنیادی ترین ضرورت ہے۔ اور اس حل کی واحد صورت وہی ہے جس کی تجویز چند ماہ قبل چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے دی تھی اور جنرل باجوہ نے اپنے حالیہ قدم سے جس کے بھرپور امکانات پیدا کردیئے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ جنرل باجوہ کی سینیٹ آمد کو کسی ڈائیلاگ کا عنوان نہیں دیا جا سکتا مگر یہ اس ممکنہ ڈائیلاگ کی جانب بڑھتے قدم تو ثابت ہو سکتے ہیں۔ آج جنرل باجوہ سے سوالات ہوئے ہیں تو کسی اگلے موقع پر ایسی بیٹھک بھی تو ہوسکتی ہے جس میں صرف فوج سے ہی سوالات نہ ہوں بلکہ سب ہی ایک دوسرے سے سوال و جواب کریں اور سوال و جواب ہی تو ڈائیلاگ ہوتا ہے۔ اگر یہ خوش فہمی بھی ہے تو میں اس خوش فہمی سے وابستہ رہنا چاہوں گا کہ بات کسی گرینڈ ڈائیلاگ کی جانب بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ اور اس کام کے لئے رضا ربانی اور جنرل باجوہ دونوں ہی بہت موزوں ہیں۔ یہ اب سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ جنرل باجوہ نے جو موقع پیدا کیا ہے اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے گرینڈ ڈائیلاگ کو حقیقت کا روپ دیں ۔ ان سول و ملٹری لیڈرز سے اس قوم کا بڑا کوئی محسن نہیں ہو سکتا جو سول ملٹری کشمکش کے اس جن کو ہمیشہ کے لئے بوتل میں بند کردیں۔ جس دن یہ ہوگیا اس دن سے ہماری قومی ترقی کی رفتار ناقابل یقین حد تک بڑھ جائے گی اور ہم ایک یکسو قوم کے طور پر ابھرنے لگیں گے !

حالات گواہی دے رہے ہیں کہ دنیا اس فیصلہ کو سننے کے لئے تیار تھی،یہ عین ممکن ہے کہ امریکی انتظامیہ نے یروشلم کو اسرائیل ک...
23/12/2017

حالات گواہی دے رہے ہیں کہ دنیا اس فیصلہ کو سننے کے لئے تیار تھی،یہ عین ممکن ہے کہ امریکی انتظامیہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے قبل یورپ،روس،چین اور سعودی عرب سمیت ایران کو بھی اعتماد میں لیا ہو،اس لئے دنیا بھر میں اس فیصلہ کے خلاف اٹھنے والی آوازیں قدرے دھیمی تھیں،بلاشبہ 1995 سے زیر التوا اس فیصلہ پر عمل درآمد سے قبل امریکہ سمیت مغربی دنیا نے ہوم ورک مکمل کر کے پوری تیاری کے ساتھ قدم اٹھایا۔حالات کے تیور بتاتے ہیں کہ اس نہایت اہم قدم سے پہلے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمان معاشروں کو فرقہ وارانہ جدلیات میں منقسم اور مسلم مملکتوں کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کیا گیا،سیاسی تقسیم کی لکیریں اتنی گہری ہیں کہ مستقبل قریب میں امت کے اتفاق و اتحاد کے امکانات معدوم ہیں،

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،جارج واشنگٹن کی تصویر تلے کھڑے ہو کے یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کر تے ہوئے جب یہ کہہ رہے تھے کہ اس کام کے لئے یہی موزوں وقت ہے تو بلاشب�...

پہلی تصویر میں زحل کا چاند Titan دوسری میں ٹائٹن سمیت چھ اور تیسری میں تین چاند(زحل کے کل 62 چاند ہیں)مستقبل میں ٹائٹن، ...
19/12/2017

پہلی تصویر میں زحل کا چاند Titan دوسری میں ٹائٹن سمیت چھ اور تیسری میں تین چاند
(زحل کے کل 62 چاند ہیں)

مستقبل میں ٹائٹن، جو زحل کا سب سے بڑا چاند ہے پر ممکنہ طور پر انسانی آباد کاری ممکن ہو سکے گی- سائنس دانوں کا خیال ہے کہ عین ممکن ہے یہاں ماضی میں کبھی زندگی موجود ہو جو اب ناپید ہو چکی ہے-
ٹائٹن نظام شمسی کا دوسرا بڑا چاند ہے اور یہ ہمارے سولر سسٹم کا واحد چاند ہے جو زمین کی طرح atmosphere رکھتا ہے-


17/12/2017
ترقی کا سفر لاھور نالج پارک بیدیاں روڈ پر 852 ایکڑز رقبے پر لاھور نالج پارک اس وقت زیر تعمیر ھے۔ ایک ارب ڈالرز اس کا ابت...
04/12/2017

ترقی کا سفر
لاھور نالج پارک
بیدیاں روڈ پر 852 ایکڑز رقبے پر لاھور نالج پارک اس وقت زیر تعمیر ھے۔ ایک ارب ڈالرز اس کا ابتدائی تخمینہ ھے۔ اس میں یونیورسٹیز، ریسرچ سینٹرز ، تجارتی مراکز ، رہائشی و تفریحی زونز اور گرین ایریاز شامل ھیں۔ 173 ارب روپے لیبر انکم ، مکمل ھونے پر 35 ارب روپے ٹیکس کنٹریبیوشن، چالیس ھزار نوکریاں اور 11200 پی ایچ ڈیز فارغ التحصیل ھوں گے۔ دنیا کی چار ٹاپ یونیورسٹیاں یہاں اپنے کیمپس کھولیں گی۔ اور لاھور پاکستان کا ایجوکیشنل ھب بن جائے گا۔
بشکریہ: طارق احمد

03/12/2017

Current Affairs...!!!
برطانیہ میں ایک انتہا پسند تنظیم کی مسلمانوں کے خلاف کچھ ٹویٹس تھیں جن کو مسٹر ٹرمپ نے ری ٹویٹ کیا.
یہ تین ویڈیوز ہیں: پہلی ویڈیو میں ایک مسلمان مہاجر ایک غیر مسلم لڑکی کو مار رہا ہے. دوسری میں ایک مسلمان مریم علیہ السلام کے مجسمے کو توڑ رہا ہے اور تیسری ویڈیو میں مسلمانون کا ایک مشتعل گروہ ایک نو عمر لڑکے کو چھت سے گراتا ہے اور پھر مار دیتا ہے...
برطانیہ کی پارلمنٹ میں آج پینتیس منٹ اس بات پر بحث ہوئی کہ ٹرمپ کی اس نفرت پھیلانے اور مزہبی انتہا پسندی کا کیا موثر جواب دیا جائے اور اسے اس سے کیسے روکا جائے. اس ناپسندیدہ فعل کی سخت مزمت ہوئی. ایک ممبر نے کہا "ٹرمپ فاسسٹ پیں" دوسرے نے کہا "یہ احمق ہیں" تیسرے نے حد کردی "یا تو یہ متعصب ہیں یا سوچ اور سمجھ سے عاری ہے یا نااہل ہیں اور یہ پھر تینوں ہیں"- وزیراعظم تیریسا مئے نے بھی بھرپور مزمت کی اور کہا کہ ٹرمپ نے جو کیا بہت برا کیا. ہم اس طرح کی نفرت پھیلانے اور کسی مزہبی گروہ کو نشانہ بنانے کی مزمت کرتے ہیں. اس مہینے ٹرمپ کا برطانیہ کا دورہ متوقع ہے. بحث جاری ہے کہ ٹرمپ کو سرزمین برطانیہ پر قدم رکھنے دیا جائے کہ نہیں. پارلمنٹ میں جب یہ سوال اٹھایا گیا تو چند ایک کے سوا سب یک زبان تھے کہ ٹرمپ کو روکا جائے گا. گریٹ امریکہ بنائے بےشک مگر اسے گریٹ بریٹین نہیں بننے دیں گے. وہ پہلے سے ہے اور ٹھیک ہے...
مزہبی منافرت کے خلاف اور نفرتوں کے زہر کو کچلنے کے لیے برطانیہ میں یہ ہنگامہ آرائی بیان کرنے کے بعد نہیں لگتا کہ ہم کچھ پاکستان کا بھی زکر چھیڑ دیں. بات نکلے گی تو بہت دور تک جاوے گی. سمجھنے والے خوب سمجھتے ہیں کہ اس بحث کو یہاں زیر بحث لانے کا مدعا کیا ہے.
رہے نام اللہ کا.....
محمد نبی چترالی

نوٹ: رائٹر نے پاکستان میں ایک اقلیت کے خلاف مسلسل نفرت اور شر انگیزی پھیلانے والوں کو شرم دلانے کی ناکام کوشش کی ہے اس نوٹ کو اتنا پھیلائیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ہی جائے 😣

یوم ولادت 12ربیع اول حضرت محمد(ص) ۔ اللہ رسول رحمت (ص) کے صدقے ہمیں ایک دوسرے کیلئیے رحمت بننے کی اور آسانیاں  بانٹنے کی...
01/12/2017

یوم ولادت 12ربیع اول حضرت محمد(ص) ۔ اللہ رسول رحمت (ص) کے صدقے ہمیں ایک دوسرے کیلئیے رحمت بننے کی اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Address

Toba Tek Singh
36050

Opening Hours

Monday 06:00 - 14:00
Tuesday 06:00 - 14:00
Wednesday 06:00 - 14:00
Thursday 06:00 - 14:00
Friday 06:00 - 14:00
Saturday 06:00 - 14:00
Sunday 06:00 - 14:00

Telephone

03046515466

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Reality posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category