20/10/2024
کسی بھلے شخص نے ترجمے کے ساتھ عبد اللہ بن مبارک کے وہ مشہور کلمات نشر کیا ہے جو انہوں نے میدان کارزار سے فضیل بن عیاض کو لکھ کر ارسال کیے تھے. .
یَا عَابِدَ الْحَرَمَیْنِ لَوْ اَبْصَرْتَنَا
اے حرمین شریفین کے عابد! اگر آپ ہم مجاہدین کو دیکھ لیں،
لَعَلِمْتَ اَنَّکَ فِی الْعِبَادَۃِ تَلْعَبُ
تو آپ جا ن لیں گے کہ آپ تو عبادت کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔
۔
مَنْ کَانَ یَخْضِبُ خَدَّہُ بِدُمُوْعِہِ
اگر آپ کے آنسو آپ کے رخساروں کو تر کرتے ہیں ،
فَنُحُوْرُنَا بِدِمَائِنَا تَتَخَضَّبُ
تو ہماری گردنیں ہمارے خون سے رنگین ہوتی ہیں۔
۔
اَوَ کَانَ یَتْعَبُ خَیْلُہُ فِیْ بَاطِلٍ
اور لوگوں کے گھوڑے فضول کاموں میں تھکتے ہیں ،
فَخُیُوْلُنَا یَوْمَ الصَّبِیْحَۃِ تَتْعَبُ
مگر ہمارے گھوڑے تو حملے کے دن تھکتے ہیں ۔
۔
رِیْحُ الْعَبیْرِ لَکُمْ وَنَحْنُ عَبِیْرُنَا
عنبر وزعفران کی خوشبو آپ کو مبارک ہو ،جبکہ ہماری خوشبو تو
رَھْجُ السَّنَابِکِ وَالْغُبَارُ الْاَ طْیَبُ
گھوڑے کے کھروں سے اڑنے والی مٹی اوراﷲ تعالیٰ کے راستے کاپاک غبار ہے۔
۔
وَلَقَدْ اَتَانَا مِن مَّقَالِ نَبِییِّنَا
ہم آپکو اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ایک فرمان سناتے ہیں،
قَوْلُ، صَحِیْحٌُ صَادِقٌُ لَایَکْذِبُ
ایسا فرمان جو بلاشبہ درست اور سچا ہے۔
۔
لَا یَسْتَوِیْ غُبَارُ خَیْلِ اﷲِ فِی
جمع نہیں ہوسکتی، اﷲتعالیٰ کے راستے کی مٹی
اَنْفِ امْرِیٍ وَدُخَانُ نَارٍتَلْھَبُ
اور جہنم کی بھڑکتی آگ کسی شخص کی ناک میں ۔
۔
ھَذَا کِتَابُ اﷲِ یَنْطِقُ بَیْنَنَا
یہ اﷲتعالیٰ کی کتاب ہمارے درمیان اعلان فرمارہی ہے کہ
لَیْسَ الشَّھِےْدُ بِمَیِّتٍ لَایَکْذِبُ
شہید مردہ نہیں ہوتا ،یہ فرمان بلاشبہ سچا ہے۔
۔
راوی کا بیان ہے کہ حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ یہ اشعار پڑھ کر رو پڑے اور فرمایا ابو عبدالرحمن ﴿عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ ﴾نے بالکل سچ فرمایا اور مجھے نصیحت کی.