31/12/2025
درخواست برائے انصاف
میرا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔ میری شادی پھوپھو کے بیٹے سے ہوئی جو نشہ کرتا تھا، جس کی وجہ سے طلاق ہو گئی۔ طلاق کے وقت میرا بیٹا صرف 4 سال کا تھا۔ اس کے بعد میں اپنی والدہ کے گھر آ کر رہنے لگی۔
ہمارے ایک ہی بھائی تھے، جن کی زندگی مسلسل خطرات میں رہی۔ کبھی انہیں اغوا کیا گیا، کبھی گولی ماری گئی۔ وہ ساری زندگی خوف میں جیتے رہے۔ ان کی پہلی بیوی اولاد نہیں رکھ سکتی تھیں، اس لیے انہوں نے دوسری شادی کی، اور اللہ تعالیٰ نے دو بیٹوں سے نوازا۔ مگر یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی، بھائی شدید بیماری کے باعث بستر سے لگ گئے۔
مجبوری کے عالم میں بھائی کی زندگی میں ہی زمین ٹھیکیداروں کو دے دی گئی۔ بھائی کے انتقال کے بعد ٹھیکیدار کبھی 5 ہزار، کبھی 10 ہزار روپے دے کر ہمیں ٹالتے رہے اور آہستہ آہستہ زمین پر قبضہ کر لیا۔ ایک ہی گھر میں تین بیوہ عورتیں تھیں، ہم کچھ نہ کر سکیں۔
ہم نے 20 سال انتہائی اذیت ناک زندگی قرضوں میں ڈوب کر گزاری۔ بعد ازاں جب ٹھیکیداروں سے زمین واپس لی گئی تو انہوں نے ہمیں ہراساں کرنا شروع کر دیا۔
میرے بیٹے اور بھتیجوں کو مسلسل دھمکیاں دی گئیں۔
ہم زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے، جبکہ وہ لوگ بااثر اور قبضہ مافیا تھے۔ آخرکار میرے بہنوئی اور بھانجوں نے ہمارے حالات دیکھ کر بڑی مشکل سے زمین خالی کروا کر ہمیں واپس دلائی۔
اب ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
مجھ پر اور میرے بیٹے پر جھوٹی ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔
میرے بیٹے کو دو ماہ قبل بھی بغیر کسی پرچے کے تھانے میں رکھا گیا، اسے سی سی ڈی کی دھمکیاں دی گئیں اور تشدد کیا گیا۔
اس وقت میرے اور میرے بیٹے کے خلاف 406 اور 420 کے تحت جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے۔
میرے بیٹے کو تین دن سے بغیر گرفتاری کے تھانے میں غیرقانونی طور پر رکھا ہوا ہے۔
دو دن سے اس سے زبردستی اسٹام پیپرز لکھوائے جا رہے ہیں۔
رات کے وقت اسے بلیک میل کر کے ویڈیوز بنائی گئیں اور بری طرح تشدد کیا جا رہا ہے۔
ہماری کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔
آج ہم آر پی او ساہیوال کے پاس جا رہے ہیں۔
ہم آپ سب سے دعا اور مدد کے طلبگار ہیں۔
ٹھیکیدار کے اوکاڑہ کے ایک ایم این اے اور بدنام افراد سے گہرے تعلقات ہیں، جبکہ ہم ایک سفید پوش، عزت دار اور مجبور گھرانہ ہیں۔
ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔
ہمیں باعزت اور پُرامن زندگی گزارنے دی جائے۔
ایف آئی آر کے کمنٹس میں موجود ہیں، دیکھی جا سکتی ہیں۔