Babar Bajwa official

Babar Bajwa official Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Babar Bajwa official, Real Estate, saudia, Jeddah.

20/05/2023
28/01/2023

اللہ اپنی اسکیم میں مداخلت پسند نہیں کرتا !

سورہ یوسف وہ واحد طویل سورت ھے جو یہود کے سوال کے جواب میں بیک وقت نازل ھوئی !
اس کو بیک وقت نازل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہود یہ نہ کہہ سکیں کہ نبی پاک ﷺ کسی سے پوچھ پوچھ کر قسطوں میں جواب دیتے ھیں !

یہ سورہ یوسف سے شروع ھونے والی داستان سورہ القصص میں جا کر مکمل ھوتی ھے جہاں اس کی انتہا ھوئی ھے !

یہود کا سوال یہ تھا جو کہ مکے کے مشرکوں کے ذریعے کیا گیا تھا کہ اگر وہ اللہ کے نبی ھیں تو ان سے پوچھو کہ بتائیں بنی اسرائیل فلسطین سے مصر کیونکر منتقل ھوئے !

جواب میں پورا قصہ یوسف بیان کیا گیا ،، اذھبوا بقمیصی ھذا فألقوہ علی وجہ ابی یأت بصیراً " وأتونی بأھلکم اجمعین " میری قمیص لے جا کر میرے ابا جی کے منہ پہ ڈالو ،، وہ دیکھنے لگ جائیں گے اور اپنی اپنی فیملیوں سمیت سارے میرے پاس آ جاؤ " گویا یوسف کو پہلے لے جا کر بادشاہ بنایا تا کہ بنی اسرائیل کے لئے پناہ گاہ میسر ھو پھر انہیں وھاں شفٹ کیا گیا !
دوسرا یہ کہ بڑے پیارے انداز میں تعریض فرمائی کہ ،،جو یوسف کے بھائیوں نے اس کے ساتھ کر کے بادشاہ بنوایا ،،آج اے مشرکینَ مکہ اور یہودِ مدینہ تم ٹھیک ٹھیک وھی کچھ محمد ﷺ کے ساتھ کر رھے ھو ،، مگر نہ برادرانِ یوسف میری اسکیم کو روک سکے تھے اور نہ تم روک سکو گے، " لقد کان فی یوسف و اخوتہ آیاتٓ للسائلین !ا ان سوال کرنے والوں کے لئے یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصے میں بڑی نشانیاں ھیں !!

یاد رکھو اللہ اپنے ٹارگٹ تک بڑے لطیف اور غیر محسوس طریقے سے پہنچتا ھے !

کوئی اس کے اگلے قدم کو preempt نہیں کر سکتا !

یوسف کو بادشاھی کا خواب دکھایا ،، باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ھے تو دوسرا مستقبل کا نبی ھے ! مگر دونوں کو ھوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ھو گا !

خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکہ غم کا چلا دیا !

یوسف دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑا ھے ،،خوشبو نہیں آنے دی !

اگر خوشبو آ گئ تو باپ ھے رہ نہیں سکے گا ،، جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاھی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !

سمجھا دونگا تو بھی اخلاقی طور پہ بہت برا لگتا ھے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رھا ھے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ھے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ھاتھ میں رکھا ھے !

اگر یوسف کے بھائیوں کو پتہ ھوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ھے اور وہ یوسف کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ھو رھے ھیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !

یوسف عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ ، ان مع العسرِ یسراً ،،

جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں ،،مگر مناسب وقت تک یوسف کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،،اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ھو جاتا تو یوسف سوالی ھوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا ،، اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا اور یوسف علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا ،، بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں : این آر او " کے تحت باھر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناھی ثابت نہ ھو جائے ،،عورتیں بلوائی گئیں،، سب نے یوسف کی پاکدامنی کی گواھی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ : انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین ،،،

وھی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف کے پاس لایا تھا ،، وھی قحط ھانکا کر کے یوسف کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ،، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ھے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ، فرمایا پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے ،، فرمایا اب یہ کرتہ لے جاؤ ،، یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا !
اب یوسف نہیں یوسف کا کرتا مصر سے چلا ھے تو : کنعان کے صحراء مہک اٹھے ھیں، یعقوب چیخ پڑے ھیں : انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون ،، تم مجھے سٹھیایا ھوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رھی ھے : سبحان اللہ ،،جب رب نہیں چاھتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی ،،جب سوئچ آن کیا ھے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئ ھے !

واللہ غالبٓ علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون ! اللہ جو چاھتا ھے وہ کر کے ھی رھتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !

یاد رکھیں آپ کے عزیزوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر کی اسکیم کو ھی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ھو ،، انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ھیں، اللہ پاک سے خیر مانگیں !

جو آپ کو جاب سے نکلوانا چاھتا ھے شاید کسی اچھے پیکیج کی راہ ھموار کر رھا ھے !!

قاری حنیف ڈار بقلم خود

حجر اسود کی واپسی ایکتاریخی واقعہ..!7 ذی الحجہ 317 ھ کو بحرین کے حاکم ابو طاہر سلیمان قرامطی نے مکہ معظمہ پر قبضہ کرلیا،...
12/01/2023

حجر اسود کی واپسی ایک
تاریخی واقعہ..!
7 ذی الحجہ 317 ھ کو بحرین کے حاکم ابو طاہر سلیمان قرامطی نے مکہ معظمہ پر قبضہ کرلیا، خوف و ہراس کا یہ عالم تھا کہ اس سال کو حج بیت اللہ نہ ہو سکا، کوئی بھی شخص عرفات نہ جاسکا-
اناللہ واناالیہ راجعون
یہ اسلام میں پہلا ایسا موقع تھا کہ حج بیت اللہ موقوف ہو گیا، اسی ابوطاہر قرمطی نے حجر اسود کو بیت اللہ سے نکالا اور اپنے ساتھ بحرین لے گیا- پھر بنو عباس کے خلیفہ مقتدر باللہ نے ابو طاہر کے ساتھ معاہدہ کر فیصلہ کیا اور تیس ہزار دینار دیے اور حجر اسود خانہ کعبہ کو واپس کیا گیا-
یہ واپسی 339ھ کو ہوئی، گویا کہ بائیس سال تک خانہ کعبہ حجر اسود سے خالی رہا، جب فیصلہ ہوا کہ حجر اسود کو واپس کیا جائے گا تو اس سلسلہ میں خلیفہ وقت نے ایک بڑے عالم محدث عبداللہ کو حجر أسود کی وصولی کے لئے ایک وفد کے ساتھ بحرین بھجوایا-
یہ واقعہ علامہ سیوطی کی روایت سے اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ جب شیخ عبداللہ بحرین پہنچے تو بحرین کے حاکم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جہاں حجر اسود کو ان کے حوالہ کیا جائے گا- اب انہوں نے ایک پتھر جو خوشبودار ہیں، خوبصورت غلاف سے نکالا گیا کہ یہ حجر اسود ہے اسے لے جائیں-
محدث عبد اللہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ حجر اسود میں دو نشانیاں ہیں اگر اس میں یہ نشانیاں پائی جائیں تو یہ حجر اسود ہوگا ورنہ نہیں!
ایک تو یہ کہ یہ ڈوبتا نہیں ہے، دوسری یہ کہ آگ سے بھی گرم نہیں ہوتا-
اس پتھر کو جب پانی میں ڈالا گیا تو ڈوب گیا پھر آگ میں اسے ڈالا گیا توسخت گرم ہوگیا یہاں تک کہ پھٹ گیا-
محدث عبداللہ نے فرمایا یہ ہمارا حجر اسود نہیں پھر دوسرا پتھر لایا گیا اس کے ساتھ بھی یہی عمل ہوا اور وہ پانی میں ڈوب گیا اور آگ پر گرم ہوگیا فرمایا کہ ہم اصل حجر اسود ہی لیں گے- پھر اصل حجر اسود لایا گیا اور آگ میں ڈالا گیا تو ٹھنڈا نکلا پھر پانی میں ڈالا گیا تو وہ پھول کی طرح پانی کے اوپر تیرنے لگا تو محد ث عبداللہ نے فرمایا :
” یہی ہمارا حجر اسود ہے اور یہی خانہ کعبہ کی زینت ہے اور یہی جنت والا پتھر ہے-"
اس وقت ابو طاہر قرامطی نے تعجب کیا اور پوچھا کہ یہ باتیں آپ کو کہاں سے ملی ہیں...؟
تو محد ث عبداللہ نے فرمایا :
یہ باتیں ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہیں کہ حجر اسود پانی میں ڈوبے گا نہیں اور آگ سے گرم نہیں ہوگا-
ابو طاہر نے کہا کہ یہ دین روایات سے بڑا مضبوط ہے-
جب حجر اسود مسلمانوں کو مل گیا تو اسے ایک کمزور اونٹنی کے اوپر لادا گیا جس نے تیز رفتاری کے ساتھ اسےخانہ کعبہ پہنچایا، اس اونٹنی میں زبردست قوت آگئی اس لئے کہ حجراسود اپنے مرکز (بیت اللہ) کی طرف جا رہا تھا لیکن جب اسے خانہ کعبہ سے نکالا گیا تھا اور بحرین لے جارہے تھے تو جس اونٹ پر لادا جاتا وہ مرجاتا حتی کہ بحرین پہنچنے تک چالیس اونٹ اس کے نیچے مرگئے-
(تاریخ مکہ للطبری) منقول

یہ تحریر ضرور پڑھیں, ایسی تحریریں  بہت کم ملتی ہیںخلیفہ سلیمان بن عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی ن...
10/01/2023

یہ تحریر ضرور پڑھیں, ایسی تحریریں بہت کم ملتی ہیں

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ہے۔ تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ہے۔
خلیفہ سلیمان کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-
خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ہوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-
نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ہوں اور مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں۔

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے اس کے پُرمتانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہو گیا۔
خلیفہ نے اپنے غلام سے کہا- کہ یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ہو کر بیتُ اللّٰہ سے باہر آئے، اسے میرے پاس لے کر آنا-
سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ جیسے ہی فارغ ہو کر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا کہ امیر المؤمنین نے آپکو یاد کیا ہے۔
سالم بن عبداللہؓ خلیفہ کے پاس پہنچے۔
خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نےکہا،
نوجوان! اب تو تم بیتُ اللّٰہ میں نہیں ہو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں۔
سالم بن عبداللہؓ نےکہا،
اے امیرالمؤمنین! آپ میری کونسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، دنیاوی یا آخرت کی؟
امیرالمؤمنین نےجواب دیا،
کہ میری دسترس میں تو دنیاوی مال و متاع ہی ہے۔ سالم بن عبداللہؓ نے جواب دیا- امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی۔ جو اس دنیا کا مالکِ کُل ہے۔ آپ سے کیا مانگوں گا۔ میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ہے۔ اگر اس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں تو میں بیان کرتا ہوں۔
خلیفہ حیران و ششدر ہو کر رہ گیا-
اور کہنے لگا- کہ نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ہے۔
خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کو حیران اور ششدر چھوڑ کر سالم بن عبداللہؓ علیہ رحمہ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

یوں ایک نوجوان حاکمِ وقت کو آخرت کی تیاری کا بہت اچھا سبق دے گیا...!!!

حیات تابعین کے درخشاں پہلو ص 443-445

محمد رسول اللہ ﷺ عنوان: زید بن حارث ؓ سے آپ ﷺ کی محبتسیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓ کے بھتیجے حکیم بن حرام کہیں سے ایک غلام خرید ک...
10/01/2023

محمد رسول اللہ ﷺ
عنوان: زید بن حارث ؓ سے آپ ﷺ کی محبت

سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓ کے بھتیجے حکیم بن حرام کہیں سے ایک غلام خرید کر لائے تھے‘ انہوں نے وہ اپنی پھوپھی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓ کی نذر کیا‘ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓ نے اس غلام کو رسول اللہ ﷺ کی نذر کیا‘ یہی غلام زید بن حارث تھے‘ یہ درحقیقت ایک آزاد خاندان کے لڑکے تھے‘ کسی لوٹ مار میں قید ہو کر اور غلام بنا کر فروخت کر دئیے گئے تھے‘ کچھ دنوں کے بعد زید ؓ کے باپ حارث اور ان کے چچا کعب کو پتہ چلا کہ زید مکہ میں کسی شخص کے پاس بطور غلام رہتے ہیں ‘ وہ دونوں مکہ میں آئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عاجزانہ درخواست پیش کی کہ زید ؓ کو آزاد کر کے ہمارے سپرد کر دیجئے‘ آپ ﷺ نے فوراً ان کی درخواست منظور فرمالی اور کہا کہ اگر زید تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے تو میری طرف سے اس کو اجازت ہے۔
چنانچہ زید ؓ بلوائے گئے‘ آپ ﷺ نے زید ؓ سے کہا کہ ان دونوں شخصوں کو تم پہچانتے ہو‘ کون ہیں ؟ زید ؓ نے کہا ہاں یہ میرے والد اور چچا ہیں ‘ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تم کو لینے آئے ہیں میری طرف سے تم کو اجازت ہے کہ ان کے ہمراہ چلے جائو۔ زید نے کہا کہ میں تو آپ ﷺ کو چھوڑ کر ہرگز جانا نہیں چاہتا‘ زید ؓ کے باپ حارث نے خفا ہو کر زید ؓ سے کہا تو غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتا ہے؟‘ زید نے کہا ہاں ‘ میں نے محمد ﷺ میں وہ بات دیکھی ہے کہ میں اپنے باپ اور تمام کائنات کو کبھی ان پر ترجیح نہیں دے سکتا۔‘‘
رسول اللہ ﷺ زید ؓ کا یہ جواب سن کر اٹھے‘ اور زید کو ہمراہ لے کر فوراً خانہ کعبہ میں گئے اور بلند آواز سے فرمایا کہ لوگو! گواہ رہو کہ آج سے میں زید ؓ کو آزاد کرتا اور اپنا بیٹا بناتا ہوں ‘ یہ میرا وارث ہو گا اور میں اس کا وارث ہوں گا۔
زید ؓ کے باپ اور چچا دونوں اس کیفیت کو دیکھ کر خوش ہو گئے اور زید ؓ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بخوشی چھوڑ کر چلے گئے‘ اس روز سے زید بجائے زید بن حارث کے زید بن محمد ﷺ کے نام سے پکارے جانے لگے۔ مگر رسول اللہ ﷺ پر جب ہجرت کے بعد یہ حکم نازل ہوا کہ منہ بولا بیٹا بنانا جائز نہیں تو زید ؓ کو پھر زید ؓ بن حارث کے نام سے پکارنے لگے‘ ۱ مگر رسول اللہ ﷺ کی محبت و شفقت زید ؓ کے ساتھ وہی رہی جو پہلے تھی بلکہ اس میں اور اضافہ ہوتا رہا۔
اس واقعہ سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ نبوت سے پہلے آپ ﷺ کے اخلاق و خصائل کس قسم کے تھے۔

16/12/2022
💚💚پهاليه گریس ریسٹورنٹ میں فداحسين کهوكهرصاحب نے سعودیہ سے آئے ہوئے اپنے دوستوں کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ کااہتمام کیا ...
15/12/2022

💚💚پهاليه گریس ریسٹورنٹ میں فداحسين کهوكهرصاحب نے سعودیہ سے آئے ہوئے اپنے دوستوں کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ کااہتمام کیا گیا جس میں خصوصی شرکت چوہدری امجدحسين تارر ایڈووکیٹ(سابق چیئرمین pk)اور میاں عبدالرؤف ایڈووکیٹ۔چوہدری خرم وراج صاحب۔چوہدری ذكا اللہ پنوصاحب حاجي مظهرقيوم تارر ۔چوہدری شعيب احمد۔ساجد عمران كهوكهر (ARY NEWS).افضال احمدكهوكهر. محمدالطاف كهوكهر. اسامه كهوكهر.قمرعباس كهوكهر.علي كهوكهر.ياسراقبال. عثمان قيوم تارر اورديگر ساتھیوں نے شرکت کر کے محفل کو چار چاند لگائے💚💚💜💜❤️❤️💚💚💜💜❤️❤️💚

Address

Saudia
Jeddah

Telephone

+966554491744

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Babar Bajwa official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category