سہنری باتیں کام کی باتیں

سہنری باتیں کام کی باتیں معیاری اردو شاعری�
اسلامی پوسٹز�
سبق آموز کہانیاں�
فن اور فنی ویڈیو ریلز�

19/05/2026
13/05/2026

🖤 حجاب صرف لباس نہیں… ایک خوبصورت کردار کی پہچان ہے۔ 🖤

حجاب عورت کی کمزوری نہیں،
بلکہ اُس کی عزت، وقار اور طاقت کی علامت ہے۔✨

جو خود کو حیا کے پردے میں رکھتی ہیں،
وہ اپنی قدر کو اور زیادہ نمایاں کر دیتی ہیں۔🌸

حجاب صرف ظاہری پردہ نہیں،
یہ نگاہوں، سوچ اور نیتوں کو پاکیزگی سکھاتا ہے۔🤍

اصل خوبصورتی چہرے سے نہیں،
بلکہ اُس حیا سے ہوتی ہے جو دل میں بسے۔🌷

ایک باحجاب لڑکی صرف اپنے آپ کی حفاظت نہیں کرتی،
بلکہ اپنے رب کی رضا کو بھی اہمیت دیتی ہے۔🕊️

میرا حجاب…
میری پہچان،
میری عزت،
اور میرے سکون کی سب سے خوبصورت علامت ہے۔✨

#حجاب
#حیا
#اسلام

#پردہ









13/05/2026

🌿 کیا ہم واقعی اللہ کے لیے جی رہے ہیں؟ 🌿

انسان اس دنیا میں صرف کھانے، کمانے اور خواہشات پوری کرنے کے لیے نہیں آیا…
ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
مگر افسوس! آج ہم دنیا کی مصروفیات میں اتنے کھو چکے ہیں کہ اپنے رب کو ہی بھولتے جا رہے ہیں۔🥺

ہم دنیا کے لیے تھکتے نہیں،
مگر نماز میں سستی کر جاتے ہیں…
لوگوں کو خوش کرنے کی فکر کرتے ہیں،
مگر اللہ کو راضی کرنے کا خیال کم ہی آتا ہے۔

یاد رکھیں!
اللہ کے لیے جینا صرف عبادت کا نام نہیں،
بلکہ ہر عمل کو اُس کی رضا کے مطابق ڈھالنے کا نام ہے۔✨

جب آپ:
🤍 سچ بولتے ہیں
🤍 والدین کی عزت کرتے ہیں
🤍 حلال رزق کماتے ہیں
🤍 کسی کا دل نہیں دکھاتے
🤍 دوسروں کی مدد کرتے ہیں
🤍 اور ہر حال میں اللہ کو یاد رکھتے ہیں…

تب آپ حقیقت میں اللہ کے لیے جینا سیکھ لیتے ہیں۔🌸

دنیا کی خوشیاں عارضی ہیں،
مگر آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔
اصل کامیابی لوگوں کی تعریف نہیں،
بلکہ اللہ کی رضا ہے۔🤲

آئیے آج خود سے ایک سوال کریں:
"کیا میری زندگی اللہ کو راضی کرنے کے لیے ہے؟"

اگر جواب کمزور لگے…
تو آج ہی سے خود کو بدلنے کی کوشش شروع کر دیں۔
نماز کی پابندی کریں،
قرآن کو سمجھیں،
اپنے اخلاق بہتر بنائیں،
اور اپنے رب کے قریب ہو جائیں۔🌙

کیونکہ…
اصل سکون صرف اللہ کے قریب ہونے میں ہے۔✨

#اسلام
#اللہ
#نماز
#قرآن
#آخرت
#توبہ

#نصیحت






13/05/2026

اے انسان! 🌿

اگر تم جنت کی خواہش رکھتے ہو
تو پھر مسجد کا راستہ کیوں بھول بیٹھے ہو؟

دنیا کی ہر کتاب پڑھ لیتے ہو،
مگر قرآنِ پاک کھولنے میں دل کیوں نہیں لگتا؟

دوستوں کی محفلوں پر دل کھول کر خرچ کرتے ہو،
مگر کسی غریب کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کا خیال کیوں نہیں آتا؟

دنیا کمانے کے لیے ہر محنت کرتے ہو،
مگر نیکی کمانے میں سستی کیوں؟

رات کے اندھیروں سے خوف کھاتے ہو،
مگر قبر کی تنہائی اور آخرت کی جواب دہی سے غافل کیوں ہو؟

زندگی بہت مختصر ہے…
آج بھی وقت ہے، اپنے رب کی طرف لوٹ آؤ۔ 🤍

#اسلام
#قرآن
#نماز
#جنت
#آخرت
#نصیحت


#اللہ
#توبہ




13/05/2026

وقت کبھی نہیں رکتا…
مگر انسان اکثر کسی لمحے میں ٹھہر جاتا ہے۔🥀
کبھی سرخ اینٹوں والے پرانے آنگن میں،
کبھی باورچی خانے کے چولہے کے پاس رکھی اُس پیڑھی پر…
کبھی چھت پر لیٹ کر تارے گنتے ہوئے،
اور کبھی خاموشی سے آسمان کو تکتے ہوئے کسی گہری سوچ میں کھو جاتا ہے۔✨
ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ کون سا لمحہ دل میں ہمیشہ کے لیے گھر کر جاتا ہے…
کوئی چائے کی پیالی عمر بھر ذائقہ چھوڑ جاتی ہے،
کوئی سرگوشی کانوں میں گونجتی رہتی ہے،
کوئی آہٹ دل دھڑکا دیتی ہے،
کوئی مسکراہٹ روح میں اتر جاتی ہے،
کوئی قہقہہ یاد بن جاتا ہے،
کوئی آنسو خاموش کہانی لکھ جاتا ہے،
اور کبھی ایک سناٹا پوری زندگی پر چھا جاتا ہے۔🥲
پھر ایک وقت آتا ہے جب ہم تھک کر بیٹھ جاتے ہیں…
اور زندگی،
ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہمارے پاس سے گزر جاتی ہے۔🍂
#وقت
#زندگی
#یادیں
#خاموشی
#احساس


#تنہائی
#الفاظ



13/05/2026

فضائلِ ماہِ ذوالحجہ، مسائلِ قربانی اور احکامِ عید
سبق نمبر: 03
تاریخِ قربانی اور اس کی عظمت
قربانی اللہ تعالیٰ کی عظیم عبادت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار سنت ہے۔ یہ محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات کو قربان کرنے، اخلاص، تقویٰ اور اطاعت کا عملی اظہار ہے۔
قربانی کا سلسلہ صرف امتِ محمدیہ تک محدود نہیں بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ قرآنِ کریم میں اس کے کئی واقعات ذکر کیے گئے ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کی قربانی
اللہ تعالیٰ سورۃ المائدہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ
(سورۃ المائدہ: 27)
ترجمہ:
اور انہیں آدم کے دو بیٹوں کا سچا واقعہ سنائیے، جب دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔
اس واقعے سے حاصل ہونے والا سبق
مفسرین فرماتے ہیں کہ ہابیل نے اخلاص کے ساتھ عمدہ جانور قربان کیا جبکہ قابیل نے ناقص چیز پیش کی۔ اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی کیونکہ قبولیت کا اصل معیار تقویٰ اور اخلاص ہے۔
اسی لیے آیت کے آخر میں فرمایا:
إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ تو صرف متقی لوگوں کی قربانی قبول فرماتا ہے۔
(تفسیر ابن کثیر، معارف القرآن)
اس واقعے سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عمل کی ظاہری صورت سے زیادہ دل کا اخلاص اہم ہے۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کا عظیم امتحان
قربانی کی سب سے عظیم یادگار حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا واقعہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں تفصیل سے بیان فرمایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ
(سورۃ الصافات: 102)
ترجمہ:
جب بیٹا ان کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا: “بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟”
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا:
يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ
ترجمہ:
“ابا جان! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”
قربانی کا اصل مقصد
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلے ایک عظیم مینڈھا بھیج دیا۔
وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
(سورۃ الصافات: 107)
ترجمہ:
اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ دے کر اس بچے کو بچا لیا۔
اہم سبق:
🌿 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اخلاص اور اطاعت کو پسند فرماتے ہیں۔
🌿 قربانی کا مقصد تقویٰ اور فرمانبرداری ہے۔
🌿 انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔
ہر امت میں قربانی کا حکم رہا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ
(سورۃ الحج: 34)
ترجمہ:
اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی تاکہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قربانی تمام آسمانی شریعتوں میں ایک عظیم عبادت رہی ہے۔
قربانی کا قرآنی حکم
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
(سورۃ الکوثر: 2)
ترجمہ:
اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔
علماءِ تفسیر فرماتے ہیں کہ اس آیت میں نماز اور قربانی دونوں کو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قربانی کی فضیلت احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ"
“قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں۔”
(سنن الترمذی: 1493 — حسن)
مزید فرمایا:
“قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا۔”
یعنی قربانی کا پورا اجر بندے کو عطا کیا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ کی قربانی کا اہتمام
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:
“رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ میں دس سال مقیم رہے اور ہر سال قربانی فرماتے رہے۔”
(سنن الترمذی: 1507)
حضرت انسؓ فرماتے ہیں:
“رسول اللہ ﷺ دو خوبصورت، سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے ذبح فرماتے تھے۔”
(صحیح البخاری: 5558، صحیح مسلم: 1966)
رسول اللہ ﷺ کا اپنی امت کی طرف سے قربانی کرنا
حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کرتے وقت فرمایا:
"اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي"
ترجمہ:
“اے اللہ! یہ قربانی میری طرف سے اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے جو قربانی نہ کر سکے۔”
(سنن ابوداؤد: 2810)
اس سے رسول اللہ ﷺ کی اپنی امت سے محبت اور قربانی کی عظمت دونوں واضح ہوتی ہیں۔
قربانی کا اصل پیغام
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ
(سورۃ الحج: 37)
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔
اس آیت کا پیغام:
🌿 قربانی کا اصل مقصد تقویٰ ہے۔
🌿 اخلاص کے بغیر عبادت کی روح باقی نہیں رہتی۔
🌿 قربانی ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھکنا سکھاتی ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
🌸 قربانی کو محض رسم نہ سمجھیں
🌸 اچھی نیت اور اخلاص کے ساتھ قربانی کریں
🌸 سنت کے مطابق قربانی کا اہتمام کریں
🌸 غرباء اور ضرورت مندوں کا خیال رکھیں
🌸 حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کو یاد رکھیں
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، تقویٰ اور سنت کے مطابق قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤍
جاری ہے۔۔۔ 🌿

13/05/2026

فضائلِ ماہِ ذوالحجہ، مسائلِ قربانی اور احکامِ عید
سبق نمبر: 02
عشرۂ ذوالحجہ اور یومِ عرفہ کے فضائل
عشرۂ ذوالحجہ کی عظمت
ماہِ ذوالحجہ پورا ہی بابرکت مہینہ ہے، لیکن اس کے ابتدائی دس دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاص فضیلت رکھتے ہیں۔ ان دنوں کو “عشرۂ ذوالحجہ” کہا جاتا ہے۔ قرآن و سنت میں ان دنوں کی بڑی اہمیت بیان ہوئی ہے۔
قرآنِ کریم میں عشرۂ ذوالحجہ کی قسم
اللہ تعالیٰ سورۃ الفجر میں ارشاد فرماتے ہیں:
وَالْفَجْرِ ۝ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ۝ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ
(سورۃ الفجر: 1-3)
ترجمہ:
قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی، اور جفت اور طاق کی۔
تفسیر:
اکثر مفسرین جیسے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، امام ابنِ کثیرؒ اور دیگر اہلِ تفسیر فرماتے ہیں کہ:
🌿 “دس راتوں” سے مراد ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں۔
🌿 “جفت” سے مراد یوم النحر یعنی 10 ذوالحجہ (عید الاضحی) ہے۔
🌿 “طاق” سے مراد یومِ عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ ہے۔
(تفسیر ابن کثیر، معارف القرآن)
اللہ تعالیٰ کا ان دنوں کی قسم کھانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دن عظمت، برکت اور فضیلت والے ہیں۔
عشرۂ ذوالحجہ میں نیک اعمال کی فضیلت
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ"
یعنی: “کوئی دن ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں سے زیادہ محبوب ہو۔”
صحابہؓ نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ ﷺ! کیا اللہ کے راستے میں جہاد بھی نہیں؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
"وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ"
“جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا اور کچھ بھی واپس لے کر نہ آیا۔”
(صحیح البخاری: 969)
اس حدیث سے معلوم ہوا:
🌿 ان دنوں میں نماز، روزہ، تلاوت، ذکر، صدقہ اور ہر نیک عمل کا اجر بہت زیادہ ہے۔
🌿 یہ دن اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں۔
ذکر و تکبیر کی کثرت کی ترغیب
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ"
“ان دنوں میں کثرت سے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اور اَلْحَمْدُ لِلَّهِ پڑھا کرو۔”
(مسند احمد: 5446 — سند حسن)
اسی لیے صحابۂ کرامؓ ان دنوں میں بلند آواز سے تکبیرات پڑھتے تھے۔
یومِ عرفہ کی فضیلت
ذوالحجہ کی 9 تاریخ یعنی یومِ عرفہ نہایت عظیم دن ہے۔ اس دن حجاجِ کرام میدانِ عرفات میں وقوف کرتے ہیں، جو حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔
یومِ عرفہ میں مغفرت
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ"
“کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ یومِ عرفہ سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتے ہوں۔”
(صحیح مسلم: 1348)
یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ"
“مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک گزشتہ اور ایک آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔”
(صحیح مسلم: 1162)
اہم وضاحت:
یہ فضیلت غیر حاجیوں کے لیے ہے، جبکہ حاجیوں کے لیے عرفات میں وقوف کے سبب روزہ نہ رکھنا افضل ہے تاکہ عبادت میں قوت باقی رہے۔
عشرۂ ذوالحجہ کے روزوں کے احکام
ذوالحجہ کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب اور باعثِ اجر ہے، خصوصاً 9 ذوالحجہ کا روزہ۔
لیکن اسلام میں پانچ دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنا منع ہے:
🌿 عید الفطر کا دن (1 شوال)
🌿 عید الاضحی کے چار دن (10، 11، 12، 13 ذوالحجہ)
رسول اللہ ﷺ نے ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔
(صحیح مسلم: 1141)
قضا روزوں کے متعلق اہم مسئلہ
اگر کسی کے ذمہ رمضان کے قضا روزے باقی ہوں تو انہیں الگ نیت کے ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ البتہ بعض اہلِ علم کے نزدیک نفلی دنوں میں قضا کی نیت کرنے سے قضا ادا ہو جاتی ہے اور امید ہے کہ ان مبارک دنوں کی فضیلت بھی مل جائے گی۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
🌸 نمازوں کی پابندی
🌸 قرآنِ کریم کی تلاوت
🌸 ذکر، تکبیر اور استغفار
🌸 صدقہ و خیرات
🌸 یومِ عرفہ کا روزہ
🌸 گناہوں سے مکمل بچنے کی کوشش
اللہ تعالیٰ ہمیں عشرۂ ذوالحجہ کی قدر کرنے اور ان مبارک ایام میں خوب نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤍
جاری ہے۔۔۔ 🌿

Address

Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سہنری باتیں کام کی باتیں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to سہنری باتیں کام کی باتیں:

Share