Saleem Tap

Saleem Tap خادم القرآن الكريم : اطمح لنشر كتاب الله تعالى وتشجيع الاطفال على حفظه وت

تندور سے روٹی چوری کرنے کا مقدمہ اور پشاور کی عدالت کا انصاف بھرا فیصلہ دو روز قبل پشاور قصہ خوانی بازار میں عورت کا تند...
10/05/2026

تندور سے روٹی چوری کرنے کا مقدمہ اور پشاور کی عدالت کا انصاف بھرا فیصلہ دو روز قبل پشاور قصہ خوانی بازار میں عورت کا تندور سے روٹی چوری کرنے کا معاملہ سامنے آیا تندور مالک نے خاتون پے تشدد کیا اور پولیس کے حوالے کر دیا کل پشاور پولیس نے خاتون کو چوری کے الزام میں عدالت میں پیش کیا۔ جج صاحب نے خاتون سے سارا معاملہ پوچھا عورت نے روتے ہوئے بتایا میرا نام گُل بانو ہے ایک حادثہ میں میرے خاوند کا انتقال ہو گیا ہے میرے تین یتیم بچے ہیں جو دو روز سے بھوکے تھے گھر میں کوئی کمانے والا نہیں میں نے مجبوری میں تندور سے روٹی اٹھائی۔ گُل بانو کے جسم پے ت شدد کے واضح نشان نظر آ رہے تھے۔ جج صاحب نے سب سے پہلے تندور مالک کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جس نے غریب بیوہ عورت پر ت شدد کیا۔ تندور مالک کو دو سال جیل کی سزا اور 5 لاکھ روپے حرجانہ کا فیصلہ سنایا۔ s.h.o کینٹ کو تبادلے کا حکم دیا۔ اور ڈی-سی پشاور کو پابند کیا کے سرکاری خزانے سے بیوہ خاتون اور اس کے بچوں کی کفالت کی جائے۔

03/05/2026
29/04/2026

📖✨ آن لائن قرآن کلاسز ✨📖

کیا آپ یا آپ کے بچے گھر بیٹھے قرآنِ پاک صحیح تلفظ اور تجوید کے ساتھ سیکھنا چاہتے ہیں؟

✔️ ماہر اساتذہ کے ساتھ
✔️ ون ٹو ون کلاسز
✔️ موبائل پر آسان تعلیم
✔️ بچوں اور بڑوں کے لیے الگ سیشن

⏰ اپنی سہولت کے مطابق وقت منتخب کریں اور ابھی شروع کریں!

📲 واٹس ایپ پر رابطہ کریں: 03409642292

🌙 آج ہی قرآن سیکھنے کا سفر شروع کریں!

28/04/2026

القرآن الكريم Naintara Official Noor Fatima آيات من القرآن الكريم Quran Karim - القرآن الكريم Qari Abu Rayhan saqi jan Abid Agro قرآن كريم Quran Majeed App

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا"(صحیح بخاری)صحابہ نے عرض کیا: مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہ...
27/04/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا"
(صحیح بخاری)
صحابہ نے عرض کیا: مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، ظالم کی کیسے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تَحْجُزُهُ عَنِ الظُّلْمِ"
ترجمہ:
ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے۔

ایک شخص نے ظالم کی تعریف کی تو دوسرے شخص نے اس پر تنقید کی، جس کے بعد مخالفین نے اپنے ردِعمل میں سخت الفاظ اور القابات استعمال کیے، اور سوشل و فکری سطح پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی۔ حالانکہ اسلامی تاریخ میں خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی منبر پر سوالات اور احتساب کا سلسلہ موجود رہا ہے دوسری بات شیخ الحدیث کو چاہیے کہ وہ اس حدیث پر عمل کریں ظالم کو ظلم سے روکھے مگر وہ اس کے برعکس اس ظالم کی تعریف کر رہا ہے

آج بھی ایک انسان جو دینی احادیث پڑھانے اور بیان کرنے سے وابستہ ہے، مگر وہ جرت نہیں کرتا کہ وہ احادیث بیان کریں جو اس وقت ان احادیث پر عمل کرنے کی سخت ضرورت پیش آئی ہیں حالانکہ موجودہ دور میں ظلم کے واقعات کو لے کر معاشرے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے والے افراد کم نظر آتے ہیں۔

اس تناظر میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ دینی رہنماؤں کو موجودہ حالات کو سمجھتے ہوئے انصاف، عدل اور ظلم کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ کسی بھی ظالم کی حمایت بالواسطہ طور پر اس کے ظلم کی تائید کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔

مختلف علاقوں، خصوصاً پشتونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے مختلف نوعیت کے واقعات اور آپریشنز کے بارے میں عوامی سطح پر تحفظات اور شکایات پائی جاتی ہیں، جن میں عام لوگوں کو مشکلات، نقل و حرکت میں رکاوٹ اور جانی نقصان جیسے مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے۔

اسی طرح یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر کوئی دینی رہنما یا شخصیت کسی ظالم طاقتور حاکم یا ادارے کی تعریف کرے تو کیا وہ ان پہلوؤں کو نہیں سمجھ سکتا جن پر عوامی سطح پر تنقید اور سوالات موجود ہیں؟

اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر کوئی شخص ظالم کی عملی حمایت نہ بھی کر سکے تو کم از کم ظلم کے ساتھ کھڑا نہ ہو، اور انصاف و حق کا راستہ اختیار کرے۔

کچھ افراد کا مؤقف ہے کہ وہ لوگ جو حق اور انصاف کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، وہ دراصل ان احادیث پر عمل کی کوشش کرتے ہیں جو موجودہ حالات میں زیادہ رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

جیسے ایک حدیث روایت ہیں:
"انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا"
صحابہ نے عرض کیا: مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، ظالم کی کیسے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تَحْجُزُهُ عَنِ الظُّلْمِ"
(صحیح بخاری)
ترجمہ:
اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔
ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے۔

پھر ایک حدیث مبارکہ ہے:
"إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ، حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ:
اللہ ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔

اس دور میں چاہے کوئی ظالم ہو یا اس کا سہولت کار، اگر اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آ گیا تو دنیا و آخرت میں رسوائی اس کا مقدر بن سکتی ہے، کیونکہ اللہ کی گرفت میں تاخیر ہو سکتی ہے مگر اندھیر نہیں۔

ایک اور حدیث نبوی ہیں:
"يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا"
(صحیح مسلم)
ترجمہ:
اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے، لہٰذا آپس میں ظلم نہ کرو۔

ایک اور جگہ فرمایا:
"اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ:
ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہوگا۔

پھر ایک اور جگہ فرمایا:
"اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ"
(صحیح بخاری)
ترجمہ:
مظلوم کی دعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔

آخر میں یہی بات سمجھائی جاتی ہے کہ اگر کوئی شخص مظلوم کے بجائے ظالم یا اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو اسے بھی اپنے عمل کے نتائج پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ اسلام میں ظلم کی حمایت سختی سے منع ہے اور مظلوم کی بددعا سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے

اور ان لوگوں کو بھی آپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ ہم انبیاء کے وارث ہیں مگر وہ مسجد کی ممبر پر بیٹھ کر غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں گالیاں دیتے ہیں ایسے اعمال اسلامی تعلیمات سخت خلاف ہیں

17/04/2026

31/03/2026

القرآن الكريم Naintara Official Qari Abu Rayhan Quran Karim - القرآن الكريم Abid Agro آيات من القرآن الكريم Noor Fatima قرآن كريم Quran Majeed App

21/03/2026

16/03/2026

14/03/2026

آج کے دور میں کون سی چیز سب سے زیادہ ختم ہوتی جا رہی ہے؟
1️⃣ اخلاص
2️⃣ سچائی
3️⃣ حیا
4️⃣ امانت داری
5️⃣ صبر
6️⃣ قناعت
7️⃣ عدل و انصاف
8️⃣ والدین کی خدمت
9️⃣ بھائی چارہ
🔟 اللہ کا خوف
1️⃣1️⃣ دین کی غیرت
1️⃣2️⃣ وعدہ نبھانا
1️⃣3️⃣ سادہ زندگی
1️⃣4️⃣ لوگوں کا احترام
1️⃣5️⃣ دلوں کی صفائی

Address

Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saleem Tap posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category